Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
245 - 881
یہ کہ ا س میں  ہر تکلیف جمع ہے۔ 
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: جب اس میں  ڈالے جائیں  گے اس کا رینکنا سنیں  گے کہ جوش مارتی ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب وہ کفار جہنم میں  ڈالے جائیں  گے تو اس کی چنگھاڑ سنیں  گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔
{اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا: جب وہ کفار جہنم میں  ڈالے جائیں  گے۔} یہاں  سے اللّٰہ تعالیٰ نے جہنم کے اوصاف بیان فرمائے ہیں  ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب وہ کفار جہنم میں  ا س طرح ڈالے جائیں  گے جس طرح بڑی آگ میں  لکڑیاں  ڈالی جاتی ہیں  تو وہ گدھے کی آواز کی طرح جہنم کی خوفناک چنگھاڑ سنیں  گے اور اس وقت جہنم ایسے جوش مارتی ہو گی جیسے پانی ہنڈیا میں  جوش مارتا ہے۔( تفسیر کبیر، الملک، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰/۵۸۶، خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۳۱۱، ملتقطاً)
پل صراط سے گزرتے وقت جنَّتیوں  پر انعام:
	یاد رہے کہ قیامت کے دن جنَّتی اگرچہ پل صراط پر سے گزریں  گے لیکن ا س وقت ان پر یہ انعام ہو گا کہ وہ جہنم کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں  گے ،جیساکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’لَا یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَهَاۚ-وَ هُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ ‘‘(انبیاء:۱۰۲)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ اس کی ہلکی سی آواز بھی نہ سنیں  گے اور وہ اپنی دل پسند نعمتوں  میں  ہمیشہ رہیں  گے۔
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِؕ-كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ(۸)قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ ﳔ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ