Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
244 - 881
وَ حِفْظًا مِّنْ كُلِّ شَیْطٰنٍ مَّارِدٍ‘‘(صٰفّٰت:۶،۷)
ستاروں  کے سنگھار سے آراستہ کیا۔ اور ہر سرکش شیطان سے حفاظت کیلئے ۔
مسجدوں  میں  روشنی کے آلات نَصب کرنے کی ترغیب:
	 علامہ اسماعیل حقی  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  اس مقام پر مَساجد میں  روشنی کرنے کے آلات نَصب کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں  ’’جب اللّٰہ تعالیٰ نے زمین کی چھت آسمان کوستاروں  سے مُزَیَّن فرمایا ہے تو بندوں  کو چاہئے کہ وہ مساجد کی چھتوں  کو قندیلوں  اور چراغوں (اورفی زمانہ روشنی حاصل کرنے کے جدید آلات)سے مُزَیَّن کریں ۔جب حضرت عمر بن خطاب  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے نمازِ تراویح میں  لوگوں  کو حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے پیچھے اکٹھا کیا تو مسجد میں  قندیلیں  لٹکائیں ، انہیں  دیکھ کر حضرت علی المرتضیٰ  کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:اے ابنِ خطاب! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ،آپ نے ہماری مسجدوں  کو روشن کیا، اللّٰہ تعالیٰ آپ کی قبر کو روشن کرے۔( روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۵، ۱۰/۸۱، سیرت حلبیہ، باب الہجرۃ الی المدینۃ، ۲/۱۱۲)
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَؕ-وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور جنہوں  نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیاان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور کیا ہی برا انجام۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔
{وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ: اور جنہوں  نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ۔} یعنی بھڑکتی آگ کا عذاب شیطانوں  کے ساتھ ہی خاص نہیں  بلکہ انسانوں  اور جنّوں  میں  سے جس نے بھی اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے ہم نے جہنم کا عذاب تیار کر رکھا ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۹۰، سمرقندی، الملک، تحت الآیۃ: ۶، ۳/۳۸۶-۳۸۷، ملتقطاً)
	 کہ وہ جگہ بھی تکلیف دِہ ،وہاں  کا کھانا پانی بھی تکلیف دہ ، سانپ بچھو تکلیف دہ اور ساتھی بھی ایذا رَساں ، غرض