Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
243 - 881
دوبارہ نگاہ اٹھا اور باربار دیکھ، ہر بارتیری نگاہ تیری طرف ناکام ہو کر تھکی ماندی پلٹ آئے گی کہ بار بار کی جُستجُو کے باوجود بھی وہ ان میں کوئی خَلَل اور عیب نہ پاسکے گی۔(خازن،الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۴/۲۸۹-۲۹۰، مدارک، الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ص۱۲۶۱-۱۲۶۲، روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۳-۴، ۱۰/۷۸-۷۹، ملتقطاً)
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کوچراغوں  سے آراستہ کیا اور انہیں  شیطانوں  کے لیے مار کیا اور ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار فرمایا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں  سے آراستہ کیا اور انہیں  شیطانوں  کو مار بھگانے کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے۔
{وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ: اور ضرور بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو چراغوں  سے آراستہ کیا۔} ا س آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی ایک اور دلیل بیان فرمائی ہے کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ نے نیچے کے آسمان کو ستاروں  سے آراستہ کیا جو کہ زمین کی طرف سب سے زیادہ قریب ہے اور لوگ اسے دیکھتے ہیں  اور ان ستاروں  کوشیطانوں  کے لیے مارنے کا ذریعہ بنایا کہ جب شَیاطین آسمان کی طرف فرشتوں  کی گفتگو سننے اور باتیں  چُرانے پہنچیں  تو ستاروں  سے شعلے اور چنگاریاں  نکلیں  جن سے انہیں  مارا جائے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ان شَیاطین کے لیے دنیا میں  جلانے کے بعد آخرت میں  بھڑکتی آگ کا عذاب تیار کررکھا ہے۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۲۹۰)
	اس کی نظیر یہ آیاتِ مبارکہ ہیں : ’’ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ ﹰالْكَوَاكِبِۙ(۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے نیچے کے آسمان کو