تو کوئی یہ اعتراض نہ کر سکے کہ اطاعت گزاروں کو انعامات اور نافرمانوں کو سزا کیوں ملی۔یاد رکھیں کہ دنیا کی زندگی ایک دن ضرور ختم ہو جائے گی جبکہ آخرت کی زندگی ہمیشہ باقی رہنے والی ہے، جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ مَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌؕ-وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِیَ الْحَیَوَانُۘ-لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ‘‘(عنکبوت:۶۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل کودہے اور بیشک آخرت کا گھر ضرور وہی سچی زندگی ہے۔کیا ہی اچھا تھا اگر وہ (یہ) جانتے ۔
اور ارشاد فرمایا: ’’وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَاۚ-وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(قصص:۶۰)ترجمۂکنزُالعِرفان: اور(اے لوگو!) جو کچھ چیز تمہیں دی گئی ہے تو وہ دنیوی زندگی کا سازو سامان اور اس کی زینت ہے اور جو(ثواب) اللّٰہ کے پاس ہے وہ بہتر اور زیادہ باقیرہنے والا ہے تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟
اور دنیا کی رنگینیوں اور رونقوں سے بھی ہمیں آزمایا جا رہاہے کہ ہم کیسے عمل کرتے ہیں ۔چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَى الْاَرْضِ زِیْنَةً لَّهَا لِنَبْلُوَهُمْ اَیُّهُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا‘‘(کہف:۷ )
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک ہم نے زمین پر موجود چیزوں کوزمین کیلئے زینت بنایا تاکہ ہم انہیں آزمائیں کہ ان میں عمل کے اعتبار سے کون اچھا ہے۔
اسی طرح ہمیں پیدا کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو نعمتیں پیدا کی ہیں ،ان کے ذریعے بھی ہمارے اعمال کی آزمائش ہو رہی ہے،جیساکہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : ’’وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ وَّ كَانَ عَرْشُهٗ عَلَى الْمَآءِ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا‘‘(ہود:۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں بنایا اور اس کا عرش پانی پر تھا(تمہیں پیدا کیا )تا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔