Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
239 - 881
بندے کا ہر عمل اللّٰہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اور شرعی طریقے کے مطابق ہونا چاہئے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ بندے کا ہر عمل خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق ہونا چاہئے، لہٰذا  جس کا عمل خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کے لئے ہو لیکن شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق نہ ہو تو وہ عمل مقبول نہیں ، اسی طرح جس کا عمل شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق تو ہو لیکن وہ خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ ریا کاری اور نفاق کے طور پر ہو تو وہ عمل بھی مقبول نہیں ۔ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا‘‘(کہف:۱۱۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان:  تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے تو جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہو اسے چاہیے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی عبادت میں  کسی کو شریک نہ کرے۔
	حضرت فضیل بن عیاض  رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’جب عمل خالص ہو لیکن درست نہ ہوتو اسے قبول نہیں  کیا جائے گا اور جب عمل درست تو ہو لیکن خالص نہ ہو تویہ بھی قبول نہیں  کیا جائے گا،عمل صرف وہی مقبول ہے جو خالص اور درست ہو اور عمل خالص اس وقت ہو گا جب اسے اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا جائے اور درست اس وقت ہو گا جب وہ سنت(یعنی شریعت کے بتائے ہوئے طریقے ) کے مطابق ہو گا۔( جامع العلوم والحکم، الحدیث الاول، ص۲۴)
	اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق عمل نہیں  کرتے اور اگر انہیں  کوئی سمجھائے تو اپنا عمل درست کرنے کی بجائے یہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ قبول کرے گا۔
ہمیں  زندگی عطاکئے جانے اور ہم پر موت مُسَلَّط کئے جانے کی حکمت:
	اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمیں  زندگی عطاکئے جانے اور ہم پر موت مسلّط کئے جانے کی حکمت یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے معاملے میں  ہماری جانچ ہو جائے کہ ہم میں  سے کون اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور کیسی اطاعت کرتا ہے تاکہ آخرت میں  جب ا طاعت گزاروں  کو انعامات ملیں  اور نافرمانوں  کو سزائیں  ملیں