Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
238 - 881
الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہوتم میں  کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں  کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے اور وہی بہت عزت والا، بہت بخشش والا ہے۔
{اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ: وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ۔} یہاں  سے اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت کے بعض آثار بیان کئے جا رہے ہیں ، چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ۔ موت (انسانوں  اور حیوانوں  میں ) روح کے جسم سے جدا ہو جانے اورحواس کی طاقت زائل ہوجانے کا نام ہے جبکہ زندگی جسم میں  روح کے وجود کے ساتھ حواس کی طاقت باقی رہنے کا نام ہے اور پیدا کرنے سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز کو وجود بخشنا ،اس سے معلوم ہوا کہ موت وجود ی چیز ہے کیونکہ محض عَدمی چیز پیدا نہیں  ہو سکتی ۔( خازن، الملک، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۲۸۹، تفسیر کبیر، الملک، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۵۷۹، ملتقطاً)
{لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا: تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں  کون زیادہ اچھے عمل کرنے والا ہے۔}  یہاں  زندگی اور موت پیدا کرنے کی حکمت بیان کی جا رہی ہے کہ اے لوگو! اللّٰہ تعالیٰ نے تمہاری موت اور زندگی کو اس لئے پیدا کیا تاکہ دنیا کی زندگی میں  وہ اپنے اَحکامات اور مَمنوعات کے ذریعے تمہاری آزمائش کرے کہ کون زیادہ فرمانبردار ، مخلص اور شریعت کے بیان کردہ طریقے کے مطابق عمل کرنے والا ہے اور کوئی اپنے برے اعمال کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کو عاجز نہیں  کر سکتا کیونکہ وہ غالب ہے اور گناہگاروں  میں  سے جو توبہ کرے اسے وہ بخشنے والا ہے۔( مدارک ، الملک ، تحت الآیۃ : ۲ ، ص۱۲۶۱، روح البیان، الملک، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۷۶، ابو سعود، الملک، تحت الآیۃ: ۲، ۵/۷۴۳، ملتقطاً)