عطا فرمائے،اٰمین۔
جہنم کے خوف سے روح پرواز کر گئی :
یہاں اسی آیت سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو،چنانچہ حضرت منصور بن عمار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میں نے حج کیااور (سفر کے دوران) کوفہ کے ایک سرائے میں ٹھہرا،پھر میں ایک اندھیری رات میں باہر نکلا تو آدھی رات کے وقت کسی کی درد بھری آواز سنی اور وہ یوں کہہ رہا تھاـ:اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، تیری عزت و جلال کی قسم!میں نے جان بوجھ کر تیری نافرمانی اور مخالفت نہیں کی اور مجھ سے جب بھی تیری نافرمانی ہوئی میں اس سے ناواقف نہیں تھا لیکن خطا کرنے پر میری بد بختی نے میری مدد کی اور تیری سَتّاری (کی امید) نے مجھے گناہ پر ابھارا اور بے شک میں نے اپنی نادانی کی بنا پر تیری نافرمانی اور مخالفت کی تو اب تیرے عذاب سے مجھے کون بچائے گا،اگر تو نے مجھ سے اپنی (رحمت وعنایت کی) رسی کاٹ لی تو میں کس کی رسی کو تھاموں گا۔جب وہ اپنی اس اِلتجاء سے فارغ ہوا تو میں نے قرآنِ مجید کی یہ آیت تلاوت کی:
’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓىٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کواس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ، اس پر سختی کرنے والے، طاقتور فرشتے مقرر ہیں جو اللّٰہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔
پھر میں نے ایک شدید حرکت سنی اور اس کے بعد کوئی آواز نہ سنائی دی ۔ میں وہاں سے چلا گیا اور دوسرے دن اپنی رہائش گاہ میں لوٹا تو دیکھا کہ ایک جنازہ رکھاہوا ہے۔میں نے وہاں موجود ایک بوڑھی خاتون سے میت کے بارے میں پوچھا اور وہ مجھے نہیں جانتی تھیـ،اس نے کہا:رات کے وقت یہاں سے ایک مرد گزرا ،اس وقت میرا بیٹا نماز پڑھ رہا تھا ،اس آدمی نے قرآنِ مجید کی ایک آیت پڑھی جسے سن کر میرے بیٹے کاانتقال ہو گیا ہے۔( مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ التحریم، حکایۃ اخری فی خشیۃ اللّٰہ تعالی، ۳/۳۱۸، الحدیث: ۳۸۸۲)