Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
215 - 881
(1)… قسم کھا لینے سے چیز قسم کھانے والے پر حرام ہو جاتی ہے اور جب وہ چیز استعمال کرے گا کفارہ لازم ہوگا۔
(2)… حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کاشہد کو اپنے آپ پر حرام فرما لینا محض ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُنَّ کو راضی کرنے کے لئے تھا ،نہ کہ بے علمی کی وجہ سے کیونکہ اپنے منہ کی بُوغیب نہیں  وہ تو محسوس ہوتی ہے، لہٰذا بدمذہب اس آیت سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بے علمی پر دلیل نہیں  پکڑ سکتے۔
قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْۚ-وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْۚ-وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: بے شک اللّٰہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں  کا اُتار مقرر فرمادیا اور اللّٰہ تمہارا مولیٰ ہے اور اللّٰہ علم و حکمت والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں  کاکھولنا مقرر فرما دیا ہے اور اللّٰہ   تمہارا مددگارہے اور وہی بہت علم والا، بڑا حکمت والا ہے۔
{قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ: بیشک اللّٰہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں  کا کھولنا مقرر فرمادیاہے۔} اس آیت میں  قسم کو کھولنے سے مرادیہ ہے کہ اللّٰہ  تعالیٰ نے آپ کے لئے قسم کا کفارہ مقرر کر دیا ہے لہٰذا آپ حضرت ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کو خدمت سے سرفراز فرمائیے، یاشہد نوش فرمائیے۔بعض مفسرین کے نزدیک قسم کھولنے سے مراد یہ ہے کہ قسم کے بعد اِنْ شَآئَ اللّٰہ کہا جائے تاکہ اس کے بر خلاف کرنے سے قسم شکنی نہ ہو۔
	حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفارہ دیا یا نہیں  دیا ،اس کے بارے میں  مقاتل سے مروی ہے کہ سر کا رِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت ماریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کو اپنے اوپر حرام کرنے کے کفارہ میں  ایک غلام آزاد کیا، اورحضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے کفارہ نہیں  دیا کیونکہ آپ مغفور ہیں  جبکہ کفارہ کا حکم اُمت کی تعلیم کیلئے ہے۔( مدارک، التحریم، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۲۵۶-۱۲۵۷)