Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
214 - 881
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ-تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: اے غیب بتا نے والے (نبی) تم اپنے اوپر کیوں  حرام کئے لیتے ہو وہ چیز جو اللّٰہ نے تمہارے لیے حلال کی اپنی بیبیوں  کی مرضی چاہتے ہو اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی!تم اپنی بیویوں  کی رضا چاہتے ہوئے اپنے اوپر اس چیز کو کیوں  حرام کرتے ہو جو اللّٰہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے اور اللّٰہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ : اے نبی!} شانِ نزول:حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں  :حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اُمُّ المؤمنین حضرت زینب بنت ِحجش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کے یہاں  شہد نوش فرماتے اور اُن کے یہاں  کچھ زیادہ دیر تشریف فرما رہتے تھے۔میں  نے اور حضرت حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے باہم مشورہ کیا کہ ہم میں  سے جس کے ہاں  حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہوں  تووہ ان سے عرض کرے:کیا آپ نے مغافیر تَناوُل فرمایا ہے، مجھے آپ (کے دہنِ مبارک) سے مغافیر کی بُو آرہی ہے۔ (جب ایسا کیا گیا اور حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کا مَنشاء معلوم تھا تو) ارشاد فرمایا: ’’ نہیں  ،البتہ میں  نے زینب بنت ِجحش رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کے یہاں شہد نوش فرمایا تھا تو ہرگز میں  دوبارہ ایسا نہیں  کروں  گا اور میں  نے اس پر قَسم کھائی ،تم اس بات کی کسی اور کو خبر مت دینا۔( بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ التحریم، باب یا ایّہا النبی لم تحرّم ما احلّ اللّٰہ لک۔۔۔ الخ، ۳/۳۵۹، الحدیث:۴۹۱۲)اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی۔
	آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایاکہ اللّٰہ تعالیٰ بخشنے والا ، مہربان ہے، اس نے آپ کی ان دونوں  مبارک بیویوں  کا یہ قصور معاف فرمادیا او ر آپ کے لئے اس قَسم کا کفار ہ بیان فرما دیا ہے جس سے آپ کی ساری امت پر آسانی ہو گی۔
آیت ’’یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں ،