Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
216 - 881
آیت ’’قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے دو باتیں  معلوم ہوئیں ،
(1)… حلال کو اپنے اوپر حرام کر لینا بھی قَسم کی ایک قِسم ہے ،البتہ اس کے برعکس یعنی حرام کو اپنے اوپر حلال کر لینا قسم نہیں  مثلاً یوں کہا کہ اگر میں یہ کروں  تو مجھ پر میری بیوی حرام، یہ قسم ہے اوریوں  کہا کہ اگر فلاں  کام کروں  تو سور کھاؤں، یہ قسم نہیں ۔
(2)… قسم کا کفارہ صرف اس دِین میں  ہے ، پچھلی شریعتوں  میں  یہ نہ تھا اسی لئے اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت ایوب عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو کفارہ کا حکم نہ دیا بلکہ قسم پوری کرنے کا حیلہ بتایا کہ اپنی بیوی کو جھاڑو مار دیں ۔
{وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ: اور اللّٰہ  تمہارا مددگارہے۔} یعنی اے میرے حبیب اور ان کے گھر والو!اللّٰہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے، اسی لئے وہ تمہارے گھر کے انتظامات خود فرماتا ہے اور تمہارے گھر کے آداب سکھاتا ہے،وہ تمہاری مصلحتوں  کا علم رکھنے والا اور اپنے اَفعال و اَحکام میں  حکمت والا ہے تو وہ تمہاری طاقت کے مطابق ہی تمہیں  کسی کا م کا حکم دے گا اور کسی سے منع فرمائے گا۔( نور العرفان، التحریم، تحت الآیۃ:۲، ص۸۹۴، روح البیان، التحریم، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۵۰، ملتقطاً)
وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًاۚ-فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍۚ-فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَاؕ-قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک راز کی بات فرمائی پھر جب وہ اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللّٰہ نے اُسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اُسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی حضور کو کس نے بتایا فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا۔