Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
199 - 881
اور اپنے میں  دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللّٰہ کے لیے گواہی قائم کرو اس سے نصیحت فرمائی جاتی ہے اُسے جو اللّٰہ اور پچھلے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب عورتیں  اپنی مدت تک پہنچنے کو ہوں تو انہیں  بھلائی کے ساتھ روک لو یا انہیں  بھلائی کے ساتھ جدا کر دو اور اپنوں  میں  سے دو عادل گواہ بنالو اور اللّٰہ کے لیے گواہی قائم کرو۔یہ ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللّٰہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادے گا۔
{فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ: تو جب عورتیں  اپنی مدت تک پہنچنے کو ہوں ۔} اس آیت میں  طلاق یافتہ عورت سے رجوع کرنے کے احکام بیان کئے گئے ہیں  ،چنانچہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب اوپر بیان کردہ طریقے کے مطابق طلاق دی جانے والی عورتیں  اپنی عدت کی اختتامی مدت کے قریب تک پہنچ جائیں  تو تمہیں  اختیار ہے، اگر تم ان کے ساتھ حسنِ معاشرت اور اچھا سلوک کرتے ہوئے رہنا چاہو تو رجوع کرلو اور دل میں  دوبارہ طلاق دینے کا ارادہ نہ رکھو اور اگر تمہیں  ان کے ساتھ خوبی اور اچھائی سے بسر کرسکنے کی اُمید نہ ہو توان کے حق، جیسے مہر وغیرہ ادا کرکے اُن سے جدائی اختیار کرلو اور انہیں  اس طرح نقصان نہ پہنچاؤکہ عدت کے آخر میں  رجوع کرلو پھرطلاق دے دو ،یوں  اُن کی عدت دراز کرکے انہیں  پریشانی میں  ڈالو،نیز رجوع کرو یا جدائی اختیار کرو دونوں  صورتوں  میں  تہمت دور کرنے اور جھگڑے سے بچنے کیلئے اپنوں  میں  سے دو ایسے مسلمانوں  کو گواہ بنا لوجو عادل یعنی شرعاً قابلِ قبول ہوں  اور گواہ بنانے سے مقصود اللّٰہ تعالیٰ کی رضا جوئی ہو اوراس میں  حق کو قائم کرنے اوراللّٰہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے علاوہ اپنی کوئی فاسد غرض نہ ہو۔ یہ وہ حکم ہے جس سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللّٰہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرے اور طلاق دے تو سنت کے مطابق دے ،عدت والی کو نقصان نہ پہنچائے ،نہ اُسے رہائش گاہ سے نکالے اور اللّٰہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مسلمانوں  کو گواہ کرلے تواللّٰہ تعالیٰ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا جس سے وہ دنیا و آخرت کے غموں  سے خلاصی پائے گااور ہر تنگی و پریشانی سے محفوظ رہے گا ۔( مدارک، الطلاق، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۲۵۱، ملخصاً)