Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
200 - 881
طلاق یافتہ عورت سے رجوع کرنے سے متعلق 3شرعی مسائل:
	یہاں  آیت کی مناسبت سے رجوع کا معنی اور طلاق یافتہ عورت سے رجوع کرنے سے متعلق 4شرعی مسائل ملاحظہ ہوں ،
(1)…جس عورت کو رجعی طلاق دی ہو،عدت کے اندراسے پہلے نکاح پر باقی رکھنا ’’رجوع‘‘ کہلاتا ہے۔
 (2)…رجوع کرنے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجوع کرے اور رجوع کرنے پر دو عادل شخصوں  کو گواہ بنا لے اورعورت کو بھی اس کی خبر کردے تاکہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگرشوہر کے رجوع کے بعد بھی عورت نے لاعلمی میں  نکاح کرلیا تودوسرے شوہر سے جدا کردیا جائے اگرچہ وہ حقِ زوجیّت ادا کر چکا ہو کیونکہ یہ نکاح نہیں ہوا، اور اگر کسی لفظ سے رجوع کیا مگر گواہ نہ بنائے یا گواہ بھی بنائے مگر عورت کو خبر نہ کی تو یہ مکروہ اورخلافِ سنت ہے مگر رجوع ہو جائے گا، اور اگر فعل سے رجوع کیا مثلاً اُس سے صحبت کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یااسی قسم کا کوئی دوسرا کام کیا تو رجوع ہو گیا مگر مکروہ ہے،لہٰذا اُسے چاہیے کہ پھر گواہوں  کے سامنے رجوع کے الفاظ کہے۔
(3)…رجوع کرنے میں  عورت کے راضی ہونے کی ضرورت نہیں  بلکہ اگر وہ انکار بھی کرے جب بھی رجوع ہو جائے گا بلکہ اگر شوہر نے طلاق دینے کے بعد کہہ دیا ہو کہ میں  نے رجوع باطل کردیا یا مجھے رجوع کا اختیار نہیں  جب بھی رجوع کر سکتا ہے۔( بہار شریعت، رجعت کا بیان، ۲/۱۷۰-۱۷۲، ملخصاً)
	نوٹ:رجوع سے متعلق مزید مسائل کی معلومات حاصل کرنے کے لئے بہار شریعت ،حصہ8سے ’’رجعت کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔
{وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا: اور جو اللّٰہ سے ڈرے اللّٰہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادے گا۔} آیت کے اس حصے کا ایک معنی اوپر بیان ہوا اورا کثر مفسرین کے نزدیک اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ حضرت عوف بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے فرزند کو مشرکین نے قید کرلیا توآپ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں  حاضر ہوئے اور عرض کی کہ میرا بیٹا مشرکین نے قید کرلیا ہے اور اسی کے ساتھ اپنی       محتاجی و ناداری کی شکایت کی، سر کارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ اللّٰہ تعالیٰ کا ڈر رکھو اور صبر کرو اور کثرت سے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم