Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
198 - 881
(3)…جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدت میں  ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں  اور جو موت کی عدت میں  ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں  نکل سکتی ہے لیکن اسے شوہر کے گھر ہی میں رات گزارنا ضروری ہے ۔ 
(4)…جو عورت طلاقِ بائن کی عدت میں  ہو، اس کے اور شوہر کے درمیان پردہ ضروری ہے اور زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اور عورت ان دونوں  کے درمیان حائل ہو ۔ 
(5)…اگر شوہر فاسق ہو یا مکان بہت تنگ ہو تو شوہر اس مکان سے چلا جائے ۔
{وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ: اور یہ اللّٰہ کی حدیں  ہیں ۔} یعنی تمہیں  جو احکام دئیے گئے یہ اللّٰہ تعالیٰ کی حدیں  ہیں  جن کے اندر رہنا بندوں  پر لازم ہے اور جو اللّٰہ تعالیٰ کی حدوں  سے آگے بڑھاتو بیشک اس نے گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کیا۔
{لَا تَدْرِیْ: تم نہیں  جانتے۔} آیت کے اس حصے میں  طلاق دینے والے کو ترغیب دی گئی ہے کہ طلاقِ رجعی یعنی ایک طلاق دے کر چھوڑ دینا ہی بہتر ہے،چنانچہ فرمایا گیا کہ اے مُخاطَب! تمہیں  معلوم نہیں ،ممکن ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ طلاق دینے کے بعد شوہرکے دل میں  عورت کی طرف میلان پیدا فرمادے اوراسے اپنے فعل پر ندامت محسوس ہو اور رجوع کرنے کی طرف مائل ہو،اس لئے اگر رجعی طلاق دی ہو گی تو ایسی صورتِ حال میں  رجوع کرناآسان ہو گا یا تین سے کم طلاقِ بائن دی ہوں  توخالی نکاح سے رجوع ہوسکتا ہے۔
فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِؕ-ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ۬ؕ-وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲)
ترجمۂکنزالایمان: تو جب وہ اپنی میعاد تک پہنچنے کو ہوں  تو اُنھیں  بھلائی کے ساتھ روک لو یا بھلائی کے ساتھ جدا کردو