میں وہ ہم بستری کرسکیں تو اس پر عدت نہیں ہے ،باقی وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا ، ان کی عدت حیض سے شمار نہ ہو گی۔
(5)…جس عورت سے حقِ زوجیَّت ادا نہیں کیا گیا اسے حیض کے دنوں میں طلاق دینا جائز ہے۔( طلاق سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے کتاب ’’طلاق کے آسان مسائل‘‘ (مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)کا مطالعہ فرمائیں)
{وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ: اور عدت کو شمارکرتے رہو۔} یہاں مَردوں کو حکم دیا گیا کہ طلاق دینے کے بعد عورت کی عدت کو شمارکرتے رہو یہاں تک کہ اسے تین بار حیض آ جائے۔یاد رہے کہ عدت کا شمار مرد و عورت دونوں ہی کریں گے البتہ یہاں بطورِ خاص مَردوں کوعدت شمار کرنے کااس لئے فرمایا گیا کہ عورتوں میں بہت مرتبہ غفلت ہوجاتی ہے۔
{وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ: اور اللّٰہ سے ڈروجو تمہارا رب ہے۔} یعنی عورتوں کی عدت دراز کرنے اور اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف وزری کرنے کے معاملے میں اس اللّٰہ تعالیٰ سے ڈروجو تمہارا حقیقی رب ہے۔
{لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ: تم عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو۔} یعنی اے لوگو!عدت کے دنوں میں عورتوں کوان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ اس دوران وہ خود اپنی رہائش گاہ سے نکلیں ،البتہ اگر وہ کسی صریح بے حیائی کا اِرتکاب کریں اوراُن سے کوئی اعلانیہ فسق صادر ہو جس پر حد آتی ہے جیسے زنا اور چوری وغیرہ کریں تو اس صورت میں تم انہیں گھر سے نکال سکتے ہو ۔( مدارک ، الطلاق ، تحت الآیۃ : ۱ ، ص۱۲۵۱ ، روح البیان، الطلاق، تحت الآیۃ: ۱، ۱۰/۲۸، خزائن العرفان، الطلاق، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۰۳۲)
گھر میں عدت گزارنے سے متعلق 5شرعی مسائل :
یہاں آیت کے اس حصے کی مناسبت سے گھر میں عدت گزارنے سے متعلق 5شرعی مسائل ملاحظہ ہوں ،
(1)… عورت کو عدت شوہر کے گھر پوری کرنی لازم ہے۔شوہر کو جائز نہیں کہ طلاق یافتہ کو عدت کے اَیّام میں گھر سے نکالے اور نہ ان عورتوں کو وہاں سے خود نکلنا جائز ہے کیونکہ یہ رہائش محض شوہر کا حق نہیں ہے جو ا س کی رضامندی سے ساقط ہو جائے بلکہ یہ شریعت کا حق بھی ہے۔
(2)…اگر عورت فحش بولے اور گھر والوں کو ایذا دے تو اسے نکالنا جائز ہے کیونکہ وہ ناشزہ (یعنی نافرمان عورت) کے حکم میں ہے ۔