صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دریافت کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا’’اسے رجوع کرنے کا حکم دو تاکہ وہ ٹھہری رہے یہاں تک کہ پاک ہو جائے،پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اب اگر چاہے تو روک لے اور چاہے تواسے چھونے سے پہلے طلاق دیدے،پس یہی وہ عدت ہے جس کا اللّٰہ تعالیٰ نے حکم فرمایاہے کہ عورتوں کو اس طرح طلاق دی جائے۔( بخاری، کتاب الطلاق، باب قول اللّٰہ تعالی: یایّہا النبی اذا طلّقتم النسائ۔۔۔ الخ، ۳/۴۷۸، الحدیث: ۵۲۵۱)
{اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ: جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو۔} اس آیت میں بیوی کوطلاق دینے کاطریقہ اورطلاق یافتہ عورت کی عدت سے متعلق شرعی احکام بیان کئے گئے ہیں ہے،چنانچہ آیت کے ابتدائی حصے کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اپنی امت سے فرمادیں کہ جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرو تو ان کی عدت کے وقت پر یعنی پاکی کے دنوں میں انہیں طلاق دو تاکہ ان کی عدت لمبی نہ ہو۔( خازن، الطلاق، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۲۷۷)
عورت کو طلاق دینے سے متعلق5شرعی احکام:
آیت کے اس حصے کی مناسبت سے عورت کو طلاق دینے سے متعلق 5شرعی احکام ملاحظہ ہوں ،
(1)…اس آیت میں عورتوں سے مراد وہ عورتیں ہیں جن سے ان کے شوہروں نے حقِ زوجیَّت ادا کیا ہواور ان کی عدت حیض سے شمار کی جائے،اگرانہیں طلاق دینی ہو تو ایسے پاکی کے دنوں میں ایک طلاق دیں جن میں ان سے جماع نہ کیا گیا ہو اور عدت گزرنے تک رجوع نہ کریں ۔اسے طلاقِ احسن کہتے ہیں ۔
(2)…اگر انہیں حیض کے دنوں میں طلاق دی ،یا پاکی کے ایسے دنوں میں طلاق دی جن میں حقِ زوجیَّت ادا کیا ہو، اسی طرح پاکی کے ایک زمانے میں دو یا تین طلاقیں ایک ساتھ یا الگ الگ دیدیں اگرچہ اس زمانے میں حقِ زوجیَّت ادا نہ کیا ہو تو یہ سب صورتیں طلاقِ بدعت کی ہیں ،اس کا حکم یہ ہے کہ طلاقِ بدعت مکروہ ہے ،مگر واقع ہو جاتی ہے اور ایسی طلاق دینے والا گناہگار ہوتاہے۔
(3)… وہ عورتیں جنہیں حیض نہیں آتا جیسے چھوٹی بچی اور حاملہ عورت ،یاآئسہ یعنی جسے بڑھاپے کی وجہ سے حیض آنا بند ہو گیا ہو،وہ اس آیت کے حکم میں داخل نہیں ہیں ۔
(4)…وہ عورت جس سے اس کے شوہر نے حقِ زوجیَّت ادانہ کیا ہو،اور نہ اسے شوہر کے ساتھ ایسی تنہائی ہوئی ہوجس