Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
195 - 881
وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْۚ-لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ-وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِؕ-وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗؕ-لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا(۱)
ترجمۂکنزالایمان: اے نبی جب تم لوگ عورتوں  کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر اُنھیں  طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور اپنے رب اللّٰہ سے ڈرو عدت میں  انھیں  اُن کے گھروں  سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں  مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں  اور یہ اللّٰہ کی حدیں  ہیں  اور جو اللّٰہ کی حدوں  سے آگے بڑھا بے شک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا تمہیں  نہیں  معلوم شاید اللّٰہ اس کے بعد کوئی نیا حکم بھیجے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے نبی!( امت سے فرمادیں  کہ) جب تم لوگ عورتوں  کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں  طلاق دو اور عدت کو شمارکرتے رہواور اللّٰہ سے ڈروجو تمہارا رب ہے۔ تم عورتوں  کوان کے گھروں  سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں  مگر یہ کہ کسی صریح برائی کا ارتکاب کریں  اور یہ اللّٰہ کی حدیں  ہیں  اور جو اللّٰہ کی حدوں  سے آگے بڑھاتو بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ تم نہیں  جانتے شاید اللّٰہ اس کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا فرمادے۔
{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ: اے نبی! جب تم لوگ عورتوں  کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں  طلاق دو۔} شانِ نزول: یہ آیت حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے حق میں  نازل ہوئی، اُنہوں نے اپنی بیوی کو عورتوں  کے مخصوص اَیّام میں  طلاق دی تھی،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں  حکم دیا کہ رجوع کریں  پھر اگر طلاق دینا چاہیں  تو طُہر یعنی پاکی کے دنوں  میں  طلاق دیں ۔صحیح بخاری شریف میں حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ انہوں  نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مبارک زمانے میں  اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں  طلاق دیدی ،اس کے بارے میں  حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسولِ کریم