(2)…یہ بتایاگیا ہے کہ وہ عورت جسے بچپنے یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو اس کی عدت تین مہینے ہے اور جو عورت حاملہ ہو ا س کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔
(3)…شوہر کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ عدت ختم ہونے تک اپنی حیثیت کے مطابق عورت کو رہائش اور خرچ مہیا کرے اور اگر بچے کو دودھ پلانے کی اجرت دینی پڑے تو وہ اجرت دینا بھی شوہر پر لازم ہے۔
(4)…اس سورت کے آخر میں اللّٰہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کرنے والی قوموں پر نازل ہونے والے عذابات کا ذکر کر کے شرعی احکام کی مخالفت کرنے سے ڈرایا گیا ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تشریف آوری کی حکمت بیان کی گئی اور اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور علم کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔
سورۂ تغابُن کے ساتھ مناسبت:
سورۂ طلاق کی اپنے سے ماقبل سورت’’ تغابُن‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ تغابُن میں فرمایا گیا کہ تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے کچھ تمہارے دشمن ہیں ۔ بیویوں کی دشمنی سے بعض اوقات معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے اور اولاد کی دشمنی کی وجہ سے انسان بعض اوقات اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ وہ اولاد پر مال خرچ کرنا بند کر دیتا ہے،اس لئے قرآنِ مجید میں سورۂ تغابُن کے بعد وہ سورت رکھی گئی جس میں طلاق کے اَحکام ،اولاد اور طلاق یافتہ عورتوں پر مال خرچ کرنے کے اَحکام بیان کئے گئے ہیں ۔( تناسق الدرر، سورۃ الطلاق، ص۱۲۶)
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَۚ-