Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
193 - 881
سورۂ طلاق
سورۂ طلاق کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورئہ طلاق مدینہ منورہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ الطلاق، ۴/۲۷۷)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  2 رکوع، 12 آیتیں  ہیں ۔
’’طلاق ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے، اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں  اور اس سورت میں  چونکہ طلاق اور اس کے بعد کے یعنی عدت کے احکام بیان کیے گئے ہیں  اس لئے اس سورت کانام ’’سورۂ طلاق ‘‘رکھا گیاہے ۔
سورۂ طلاق کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  وہ احکام بیان کئے گئے ہیں  جن کاتعلق میاں  بیوی کی ازدواجی زندگی کے ساتھ ہے،نیز اس میں  یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں  :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  صحیح طریقے سے طلاق دینے کا طریقہ ، عدت اور رجوع کے مسائل بیان کئے گئے ہیں  کہ اگر عورت کو طلاق دینی ہو تو پاکی کے دنوں  میں  اسے طلاق دی جائے،عورت شوہر کے گھر میں  اپنی عدت پوری کرے،اگر ایک یا دو طلاقیں  دی ہیں  تو عدت پوری ہونے سے پہلے بھلائی کے ساتھ عورت سے رجوع کر لیا جائے یا اسے چھوڑ دیا جائے اور اگر رجوع کیا جائے تو اس رجوع پر دو مَردوں  کو گواہ بنا لیا جائے۔