ہی دن وہ جما ہوا خون رہتا ہے ،پھر اتنے ہی دنوں تک وہ گوشت کی بوٹی کی صورت میں رہتا ہے ،پھر اس کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے تو اسے چار باتوں کی اجازت دی جاتی ہے ،چنانچہ وہ اس کا رزق،موت،عمل اور بدبخت یا نیک بخت ہونا لکھ دیتا ہے ،پھر ا س کے اندر رُوح پھونکی جاتی ہے ،پس تم میں سے کوئی اہلِ جنت جیسے عمل کرتا رہتاہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف گز بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو ا س پر لکھا ہوا غالب آ تا ہے اور وہ اہلِ جہنم جیسے کام کرنے لگتا ہے حتّٰی کہ جہنم میں داخل ہوجاتا ہے اور تم میں سے کوئی اہلِ جہنم جیسے عمل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف گز بھر کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس پر لکھا ہوا غالب آ جاتا ہے اور وہ اہلِ جنت جیسے عمل کر کے جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔( بخاری، کتاب التوحید، باب ولقد سبقت کلمتنا لعبادنا المرسلین، ۴/۵۶۰، الحدیث: ۷۴۵۴)
تفسیر اور اَحادیث کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بات خاص طور پریاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو بے بس اور مجبور نہیں بنایا بلکہ اسے عمر کے آخری حصے تک یہ اختیار دیا ہے کہ وہ کفر اور ایمان میں سے یونہی اچھے اور برے اعمال میں جسے چاہے اختیار کرے لہٰذا اس کا کافر یا مسلمان ہونا یونہی نیک یا گناہگار ہونااس کے اپنے اختیار سے ہے اور جو کچھ انسان نے اپنے اختیار سے کرنا تھااس کااللّٰہ تعالیٰ کو ازل سے ہی علم تھا اور اسی کے موافق لوحِ محفوظ میں اور ماں کے پیٹ میں فرشتے نے لکھا ہے۔
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْۚ-وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری اچھی صورت بنائی اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری صورتیں بنائیں تو تمہاری اچھی صورتیں