جس نے تمہیں پیدا کر کے اور عدم سے وجود میں لا کر تم پر احسان فرمایااوراِس کا حق یہ تھا کہ تم سب اللّٰہ تعالیٰ پر ایمان لا کر اور اس کی اطاعت وفرمانبرداری کر کے اس کے شکر گزار ہوتے لیکن تمہیں کیا ہو گیا کہ تم مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے اورتم میں سے کوئی کافر ہے کوئی مسلمان،(یاد رکھو کہ ) اللّٰہ تعالیٰ کافر کے کفر اور مومن کے ایمان کو جانتا ہے اوروہ ہر ایک کو قیامت کے دن ا س کے عمل کے مطابق جزا دے گا۔( مدارک، التغابن، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۲۴۶، روح البیان، التغابن، تحت الآیۃ: ۲، ۱۰/۴-۵، ملتقطاً)
دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے لوگو! وہی اللّٰہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے کافر پیدا فرمایا اور کوئی ایسا ہے جسے مسلمان پیدا فرمایاہے اور اللّٰہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے تو وہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ فرمائے گاجو تمہارے اعمال کے مناسب ہو۔( تفسیرسمرقندی، التغابن، تحت الآیۃ: ۲، ۳/۳۶۸-۳۶۹، بیضاوی، التغابن، تحت الآیۃ: ۲، ۵/۳۴۴، ملتقطاً)
یہاں آیت کی دوسری تفسیر کی مناسبت سے تین اَحادیث بھی ملاحظہ ہوں :
(1)… اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں ،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے عائشہ!اللّٰہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جنت کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے اور بعض لوگوں کو جہنم کا اہل بنایا حالانکہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔( مسلم، کتاب القدر، باب کلّ مولود یولد علی الفطرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۴۳۱، الحدیث: ۳۱(۲۶۶۲))
(2)…حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللّٰہ تعالیٰ عورت کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے تو وہ عرض کرتا ہے:اے میرے رب!یہ تو نطفہ ہے،یہ تو خون کا لوتھڑا ہے،یہ تو گوشت کا ٹکڑا ہے،اور جب اللّٰہ تعالیٰ اسے پیدا کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو فرشتہ عرض کرتا ہے :یہ مُذَکَّر ہے یا مُؤنَّث؟ یہ بد بخت ہے یا سعادت مند؟اس کا رزق کتنا ہے؟اس کی عمر کتنی ہے ؟تو(جس طرح بتایا جاتا ہے) اسی کے مطابق اس کی والدہ کے پیٹ میں لکھ دیا جاتا ہے۔( بخاری، کتاب القدر، باب فی القدر، ۴/۲۷۱، الحدیث: ۶۵۹۵)
(3)…حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، صادِق اور مَصدوق رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے ہر ایک کا نطفہ اس کی والدہ کے پیٹ میں چالیس دن تک رہتا ہے ،پھر اتنے