بنائیں اور اسی کی طرف پھرنا ہے۔
{خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ: اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے۔} ارشاد فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے جن میں ہزاروں دینی اور دُنْیَوی مَصلحتیں ہیں اوراس نے تمہاری صورت بنائی تو دیگر مخلوق کے مقابلے میں تمہاری اچھی صورتیں بنائیں ،اس احسان کے شکریے میں تم پر لازم ہے کہ اپنی سیرت بھی اچھی رکھو،نیز قیامت کے دن تمہیں اسی کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے تو تم اپنے باطن کو اچھا کر لو تاکہ عذاب کے ذریعے تمہارے ظاہر کومَسخ نہ کر دیاجائے۔( روح البیان، التغابن، تحت الآیۃ:۳، ۱۰/۵-۶، بیضاوی، التغابن، تحت الآیۃ: ۳، ۵/۳۴۵، خازن، التغابن، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۲۷۵، ملتقطاً)
انسانی صورت بہترین صورت ہے، اسے بگاڑنا حرام ہے، لہٰذا ناک کان کاٹنا، چہرے پر راکھ وغیرہ مل کر صورت بگاڑنا، مَردوں کو عورت کی شکل یا عورتوں کو مَردوں کی شکل بناناحرام ہے ،اللّٰہ تعالیٰ نے جو صورت بخشی وہ ہی اچھی ہے۔
یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو اور اللّٰہ دلوں کی جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہواور جوتم ظاہر کرتے ہو، اور اللّٰہ دلوں کی بات خوب جانتا ہے۔
{یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ: وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔} اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے علم کی وسعت کو بیان فرمایا ہے ،چنانچہ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں موجود ہر چیز کو اللّٰہ تعالیٰ جانتا