Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
169 - 881
نہیں  دوں  گا جب تک تو اس کا اقرار نہ کرے کہ تو ذلیل ہے اور محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ۔ اس کو بڑا تعجب ہوا کیونکہ یہ ہمیشہ سے باپ کے ساتھ نیکی کابرتاؤ کرنے والے تھے مگر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں  باپ کی کوئی عزت و محبت دل میں  نہ رہی۔ آخر اس نے مجبور ہوکر اقرار کیا کہ واللّٰہ میں  ذلیل ہوں  اور محمد مصطفی  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ عزیز ہیں ، اس کے بعد مدینہ میں  داخل ہوسکا۔( سیرت حلبیہ، باب ذکر مغازیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، غزوۃ بنی المصطلق،۲/۳۹۳، مدارج النبوۃ، قسم سوم، باب پنجم، ۲/۱۵۷، ملتقطاً) 
آیت’’وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ سے معلوم ہونے والے مسائل:
	اس آیت سے 4 مسئلے معلوم ہوئے،
(1)… ہر مومن عزت والا ہے کسی مسلم قوم کو ذلیل جاننا یا اسے کمین کہنا حرام ہے۔
(2)… مومن کی عزت ایمان اور نیک اعمال سے ہے، روپیہ پیسہ سے نہیں ۔
(3)… مومن کی عزت دائمی ہے فانی نہیں  اسی لئے مومن کی لاش اور قبر کی بھی عزت کی جاتی ہے۔
(4)… جو مومن کو ذلیل سمجھے وہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک ذلیل ہے، غریب مسکین مومن عزت والا ہے جبکہ مالدار کافر بد تر ہے۔
 نفاق کی اَقسام اور عملی منافقوں  کی علامات:
	منافقوں  کا بیان ختم ہوا،اب یہاں  نفاق کی اَقسام اور عملی منافقوں  کی علامات کے بیان پر مشتمل 3اَحادیث ملاحظہ ہو ں ،چنانچہ نفاق کے بارے میں  بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  فرماتے ہیں : نفاق کہ زبان سے دعویٔ اسلام کرنا اور دل میں  اسلام سے انکار، یہ بھی خالص کفر ہے، بلکہ ایسے لوگوں  کے لیے جہنم کا سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔ حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے زمانۂ اقدس میں  کچھ لوگ اس صفت کے اس نام کے ساتھ مشہور ہوئے کہ ان کے کفرِ باطنی پر قرآن ناطق ہوا، نیز نبی  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے اپنے وسیع علم سے ایک ایک کو پہچانا اور فرما دیا کہ یہ منافق ہے۔اب اِس زمانہ میں  کسی خاص شخص کی نسبت قطع(یعنی یقین) کے ساتھ منافق نہیں  کہا جاسکتا، کہ ہمارے سامنے جو دعویٔ اسلام کرے ہم اس کو مسلمان ہی سمجھیں  گے، جب تک اس سے وہ قول یا فعل جو