مُنافی ٔایمان ہے نہ صادر ہو، البتہ نفاق کی ایک شاخ اِس زمانہ میں پائی جاتی ہے کہ بہت سے بد مذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے تو دعویٔ اسلام کے ساتھ ضروریاتِ دین کا انکار بھی ہے۔( بہار شریعت، حصہ اول، ایمان وکفر کابیان، ۱/۱۸۲)
اور عملی نفاق کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کام کرے جو مسلمانوں کے شایانِ شان نہ ہو بلکہ منافقین کے کرتوت ہوں ۔یہاں ان میں سے دواَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت عبداللّٰہبن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ کہ جس میں چارعیوب ہوں وہ خالص منافق ہے اورجس میں ان چار میں سے ایک عیب ہو تو اس میں منافقت کا عیب ہوگا جب تک کہ اُسے چھوڑ نہ دے(1) جب امانت دی جائے تو خیانت کرے،(2)جب بات کرے توجھوٹ بولے،(3)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے،(4)جب لڑائی کرے تو گالیاں بکے۔( بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱/۲۵، الحدیث: ۳۴)
(2) …حضرت عبد الرحمن بن حرملہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’ہمارے اور منافقوں کے درمیان فرق عشاء اور صبح کی نماز میں حاضر ہونا ہے ،منافقین ان دونوں نمازوں (میں حاضر ہونے )کی اِستطاعت نہیں رکھتے ۔( سنن الکبری للبیہقی،کتاب الصلاۃ،باب ما جاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر،۳/۸۳،الحدیث:۴۹۵۳)
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں نفاق سے اور منافقوں جیسے کام کرنے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِۚ-وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۹)
ترجمۂکنزالایمان: اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللّٰہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں ۔