Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
168 - 881
(2)…حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے زمین کے خزانوں  کی چابیاں  عطا کی گئی ہیں ۔( بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاۃ علی الشہید، ۱/۴۵۲، الحدیث: ۱۳۴۴)
یَقُوْلُوْنَ لَىٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِیْنَةِ لَیُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّؕ-وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: کہتے ہیں  ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں  سے نکال دے گا اُسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں  ہی کے لیے ہے مگر منافقوں  کو خبر نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:  وہ کہتے ہیں : قسم ہے اگر ہم مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں  سے نہایت ذلت والے کو نکال دے گا حالانکہ عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں  ہی کے لیے ہے مگر منافقوں  کو معلوم نہیں ۔
{یَقُوْلُوْنَ: وہ کہتے ہیں ۔} یعنی منافق کہتے ہیں : اگر ہم اس غزوہ سے فارغ ہونے کے بعد مدینہ کی طرف لوٹ کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں  سے نہایت ذلت والے کو نکال دے گا۔ منافقوں  نے اپنے آپ کو عزت والا کہا  اورمسلمانوں  کو ذلت والا ،اللّٰہ تعالیٰ ان کا رد کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ عزت تو اللّٰہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں  ہی کے لیے ہے مگر منافقوں  کو معلوم نہیں ،اگر وہ یہ بات جانتے تو ایسا کبھی نہ کہتے ۔منقول ہے کہ یہ آیت نازل ہونے کے چند ہی روز بعد عبد اللّٰہ بن اُبی منافق اپنے نفاق کی حالت پر مر گیا۔( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۲۷۴)
عبد اللّٰہ بن اُبی منافق کے بیٹے کا عشق رسول:
	عبداللّٰہ بن اُبی کے بیٹے کا نام بھی عبداللّٰہ تھا اور یہ بڑے پکے مسلمان اور سچے عاشقِ رسول تھے ،جنگ سے واپسی کے وقت مدینہ منورہ سے باہر تلوار کھینچ کر کھڑے ہوگئے اور باپ سے کہنے لگے :اس وقت تک مدینہ میں  داخل ہونے