یقیناً اللّٰہ کے رسول ہیں اور اللّٰہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں توکہتے ہیں ، ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ یقینا اللّٰہ کے رسول ہیں اور اللّٰہ جانتا ہے کہ بیشک تم یقینا اس کے رسول ہو اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ بیشک منافق ضرور جھوٹے ہیں ۔
{اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ: جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں ۔} اس سورئہ مبارکہ میں منافقین کے مختلف اَحوال بیان کئے گئے ہیں ،چنانچہ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،جب منافق آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں تواپنی دلی حالت کے برخلاف کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ یقینا اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ان منافقوں کے اس قول کے جواب میں اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں اور ان منافقوں کے منہ سے جو بات نکلی وہ بالکل درست ہے لیکن اللّٰہ تعالیٰ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ منافق اِس گواہی دینے میں ضرور جھوٹے ہیں کیونکہ ان کا باطن ظاہر کے موافق نہیں اور جو بات وہ کہتے ہیں اس کے خلاف اعتقاد رکھتے ہیں ۔( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۲۷۰، مدارک، المنافقون، تحت الآیۃ: ۱، ص۱۲۴۲، ملتقطاً)
اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِؕ-اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۲)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِـعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیاتو اللّٰہ کی راہ سے روکا بے شک وہ بہت ہی بُرے کام کرتے ہیں ۔یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو اُن کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا تو انہوں نے اللّٰہ کے راستے سے روکا بیشک وہ بہت ہی برے