کام کرتے ہیں ۔یہ اس لیے ہے کہ وہ (زبان سے) ایمان لائے پھر (دل سے )کافر ہوگئے تو ان کے دلوں پر مہر لگادی گئی تو اب وہ سمجھتے نہیں ۔
{اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً: اور انہوں نے اپنی قسموں کوڈھال بنالیا ۔} یعنی منافقوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے تاکہ وہ ان کے ذریعے قتل اورقید کئے جانے سے محفوظ رہیں ،یہ زبان سے تو قسمیں کھاتے ہیں لیکن ان کا عمل یہ ہے کہ لوگوں کو طرح طرح کے وسوسے اور شُبہے ڈال کرسرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لانے اور اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے سے روکتے ہیں ،بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں کہ نفاق سے آپ کی بارگاہ میں آتے، دھوکہ دینے کے لئے ایمان کاا ظہار کرتے،لوگوں کو اللّٰہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے اور ایمان کے مقابلے میں کفر کو اختیار کرتے ہیں ۔( خازن، المنافقون، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۲۷۱، مدارک، المنافقون، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۲۴۲، ملتقطاً)
{ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا : یہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کافر ہوگئے۔ } یعنی منافقوں کے یہ برے اعمال اس لیے ہیں کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر وہ دل سے کافر ہو گئے اور ان کے دل کا کفر لوگوں پر ظاہر ہو گیا، منافقوں کی ان حرکتوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہرلگا دی گئی ہے تو اب ان کے دلوں میں ایمان کیسے داخل ہو۔
وَ اِذَا رَاَیْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْؕ-وَ اِنْ یَّقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِهِمْؕ-كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌؕ-یَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَیْحَةٍ عَلَیْهِمْؕ-هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْؕ-قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ٘-اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب تو انھیں دیکھے ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں اور اگر بات کریں تو تو اُن کی بات غور سے سنے گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللّٰہ اُنھیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں ۔