اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مدینہ منورہ سے نکال دیں گے۔
(4) …اس سورت کے آخر میں مسلمانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور ا س کی عبادت کرنے میں مصروف رہیں ،اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے مقابلے کے لئے اللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کریں اور اس میں دیر نہ کریں کیونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں ۔
سورۂ جمعہ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ منافقون کی اپنے سے ماقبل سورت ’’جمعہ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جمعہ میں مسلمانوں کا ذکر کیا گیا اور اس سورت میں ان کی ضد یعنی منافقوں کاذکر کیا گیا۔دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ جمعہ میں یہودیوں کا ذکر کیا گیا جو کہ زبان اور دل دونوں سے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلاتے تھے اور سورۂ منافقون میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جو زبان سے حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کا اقرار کرتے اور دل سے اس کے منکر تھے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان:اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے ۔
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِۘ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗؕ-وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَكٰذِبُوْنَۚ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بے شک