Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
157 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں  پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو اور اللّٰہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ 
{فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ: پھر جب نماز پوری ہوجائے۔ } یعنی جب نماز پوری ہو جائے تو اب تمہارے لئے جائز ہے کہ معاش کے کاموں  میں  مشغول ہو جاؤ یا علم حاصل کرنے ،مریض کی عیادت کرنے ،جنازے میں  شرکت کرنے ، علماء کی زیارت کرنے اور ان جیسے دیگر کاموں  میں  مشغول ہو کر نیکیاں  حاصل کرو اور نماز کے علاوہ بھی ہر حال میں  اللّٰہ تعالیٰ کو یاد کیا کرو تاکہ تمہیں  کامیابی نصیب ہو۔( خازن، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۶۸، مدارک، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۴۱، ملتقطاً)
وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاﰳ انْفَضُّوْۤا اِلَیْهَا وَ تَرَكُوْكَ قَآىٕمًاؕ-قُلْ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ مِّنَ اللَّهْوِ وَ مِنَ التِّجَارَةِؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ۠(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب انھوں  نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا اس کی طرف چل دئیے اور تمہیں  خطبہ میں  کھڑا چھوڑ گئے تم فرماؤ وہ جو اللّٰہ کے پاس ہے کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللّٰہ کا رزق سب سے اچھا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب انہوں  نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا تواس کی طرف چل دیئے اور تمہیں  کھڑا چھوڑ گئے تم فرماؤ: جو اللّٰہ کے پاس ہے وہ کھیل سے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللّٰہ بہترین روزی دینے والا ہے۔ 
{وَ اِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَاﰳ: اور جب انہوں  نے کوئی تجارت یا کھیل دیکھا ۔} شانِ نزول:حضرت جابربن عبداللّٰہ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : ایک مرتبہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جمعہ کے دن کھڑے (ہوکرجمعہ کاخطبہ ارشاد فرمارہے) تھے کہ اچانک مدینہ طیبہ میں ایک تجارتی قافلہ آپہنچا (دستور کے مطابق اعلان کیلئے طبل بجایا گیا)تو رسول اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اصحاب اس کی طرف چل دئیے حتّٰی کہ 12 آدمیوں  کے سوامسجد میں  کوئی بھی باقی نہ بچا۔ میں  ، حضرت ابوبکرصدیق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اورحضرت عمرفاروق  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ان بارہ افراد میں  شامل تھے ۔اس وقت