Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
156 - 881
(2)… جمعہ پڑھنے کے لئے 6شرطیں  ہیں  ،ان میں  سے ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو جمعہ ہو گا ہی نہیں  ،(1)جہاں  جمعہ پڑھا جا رہا ہے وہ شہر یا فنائِ شہر ہو۔ (2)جمعہ پڑھانے والاسلطانِ اسلام ہویا اس کا نائب ہو جسے جمعہ قائم کرنے کا حکم دیا۔ (3)ظہر کا وقت ہو۔یعنی ظہر کے وقت میں  نماز پوری ہو جائے ،لہٰذا اگر نماز کے دوران اگرچہ تشہد کے بعد عصر کا وقت آگیا تو جمعہ باطل ہو گیا،اب ظہر کی قضا پڑھیں ۔(4) خطبہ ہونا۔(5)جماعت یعنی امام کے علاوہ کم سے کم تین مَردوں  کا ہونا۔ (6)اذنِ عام،یعنی مسجد کا دروازہ کھول دیا جائے کہ جس مسلمان کا جی چاہے آئے ،کسی کو روک ٹوک نہ ہو ۔
(3)…جمعہ فرض ہونے کے لئے 11شرطیں  ہیں  ،اگر ان میں  سے ایک بھی نہ پائی گئی تو جمعہ فرض نہیں  ،لیکن اگر پڑھے گا تو ادا ہو جائے گا۔(1)شہر میں  مقیم ہونا،(2)صحت،یعنی مریض پر جمعہ فرض نہیں ،مریض سے مراد وہ ہے کہ جامع مسجد تک نہ جا سکتا ہو،یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں  اچھا ہو گا۔ (3)آزاد ہونا،(4)مرد ہونا،(5)عاقل ہونا، (6)بالغ ہونا،(7)آنکھوں والا ہونا،یعنی نابینا نہ ہو،(8)چلنے پر قادر ہونا،(9)قید میں  نہ ہونا(10)بادشاہ یا چور وغیرہ کسی ظالم کا خوف نہ ہونا،(11)اس قدر بارش،آندھی،اولے یا سردی نہ ہوناکہ ان سے نقصان کا صحیح خوف ہو۔
	نوٹ:جمعہ سے متعلق شرعی مسائل کی مزید معلومات حاصل کرنے کیلئے بہار شریعت،جلد 1،حصہ4سے ’’جمعہ کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔
{ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ: یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔} یہاں  بہتری سے مراد لُغوی بہتری ہے یعنی دنیاوی کاروبار سے نمازِ جمعہ اور خطبہ وغیرہ بہتر ہے، اس سے یہ لازم نہیں  آتا کہ یہ حاضری واجب نہ ہو، صرف مستحب ہو۔
فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلٰوةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَ ابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: پھر جب نماز ہوچکے تو زمین میں  پھیل جاؤ اور اللّٰہ کا فضل تلاش کرو اور اللّٰہ کو بہت یاد کرو اس امید پر کہ فلاح پاؤ۔