یہ آیت نازل ہوئی۔(مسلم،کتاب الجمعۃ،باب فی قولہ تعالی:واذا رأوا تجارۃ او لہونا انفضوا الیہا۔۔۔الخ، ص۴۲۹، الحدیث:۳۸(۸۶۳))
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جب انہوں نے کسی تجارت کے بارے میں جانا یا کھیل کے بارے میں سنا تواس کی طرف چل دیئے اورآپ کو خطبے کی حالت میں منبر پر کھڑا چھوڑ گئے ،آپ ان سے فرمادیں : جونماز کا اجر و ثواب اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر رہنے کی برکت و سعادت ہے جو درحقیقت اللّٰہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ کھیل اور تجارت سے بہتر ہے اور چونکہ اللّٰہ تعالیٰ بہترین روزی دینے والا ہے اس لئے تم اسی کی طرف چلو اور اسی سے رزق طلب کرو۔( روح البیان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۱۱، ۹/۵۲۸)
یاد رہے کہ جب یہ واقعہ رونما ہوا اس وقت بہت تنگی اور مہنگائی کا دورتھا اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اس خیال سے چلے گئے تھے کہ کہیں اَجناس ختم نہ ہو جائیں اور وہ انہیں پانے سے رہ جائیں ،اور ایسے حالات میں اس طرح ہونا ایک فِطری امر ہے نیز اس آیت کے نزول سے پہلے اِس طرح کے فعل سے کہیں منع بھی نہیں کیا گیا تھا بلکہ اِس آیت کے ذریعے حکم نازل کیا گیا تو حکم کے نزول سے پہلے ایسا کرنا کوئی گناہ نہیں تھا ، اسی لئے ا س آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے ان کی مذمت نہیں فرمائی بلکہ تربیت فرمائی ہے کہ ایسا کرنا ان کی شان کے لائق نہیں ،لہٰذا ان کے اس فعل پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ۔
نوٹ: اس سے ثابت ہوا کہ خطیب کو کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا چاہیے۔