Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
147 - 881
اسی علم کے ذریعے داخل ہوئے ہیں  جو ہم نے تم سے ہی سیکھا تھا؟ وہ کہیں  گے :ہم جو کہتے تھے وہ کرتے نہیں  تھے۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۴۱، الحدیث: ۹۹)
(3)…حضرت ابو درداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ’’اے عویمر!اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب قیامت کے دن تم سے کہا جائے گا:تو نے علم حاصل کیا تھا یا جاہل رہے؟ اگر تو نے یہ جواب دیا کہ میں  نے علم حاصل کیا تھا تو تم سے پوچھا جائے گا:تو نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟اگر تو نے کہا :میں  جاہل رہا،تو تم سے کہا جائے گا:جاہل رہنے میں  تمہارا عذر کیا تھا ؟تم نے علم کیوں  نہ حاصل کیا؟( ابن عساکر، حرف المیم، ۸۷۹۳- ابو محمد الکلبی، ۶۷/۱۸۱)
(4)…حضرت حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’اس شخص کے لئے ہلاکت ہے جو علم حاصل نہ کرے اور اس آدمی کے لئے بھی ہلاکت ہے جو علم حاصل کرے پھر ا س پر عمل نہ کرے ۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الثانی، ۵/۸۶، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۹۰۳۶)
(5)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’مجھے تم پر ہر علم والے منافق کا خوف ہے جو کلام حکمت والا کرے گا اور عمل گناہوں  پر کرے گا۔( کنز العمال، حرف العین، کتاب العلم، قسم الاقوال، الباب الثانی، ۵/۸۶، الجزء العاشر، الحدیث: ۲۹۰۴۰)
قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا اِنْ زَعَمْتُمْ اَنَّكُمْ اَوْلِیَآءُ لِلّٰهِ مِنْ دُوْنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ اے یہودیو! اگر تمہیں  یہ گمان ہے کہ تم اللّٰہ کے دوست ہو اور لوگ نہیں  تو مرنے کی آرزو کرو اگر تم سچے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ :اے یہودیو!اگر تمہیں  یہ گمان ہے کہ صرف تم اللّٰہ کے دوست ہودوسرے لوگ نہیں  ،تو ذرا مرنے کی تمنا کرواگر تم سچے ہو ۔