Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
148 - 881
{قُلْ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ هَادُوْۤا: تم فرماؤ :اے یہودیو!۔} یہودی کہتے تھے کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں ، اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک آخرت کا گھر خالص ہمارے لئے ہے اور جنت میں  صرف یہودی ہی جائیں  گے ۔اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو حکم دیا کہ آپ ان کے جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے ان سے فرما دیں : اے یہودیو! تمہیں  یہ گمان ہے کہ دوسرے لوگوں  کو چھوڑ کر صرف تم اللّٰہ تعالیٰ کے دوست ہو ،اگر تم اپنے اس دعوے میں  سچے ہوتو مرنے کی آرزو کرو تاکہ موت تمہیں  اس تک پہنچا دے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ کے دوستوں  کے لئے آخرت دنیا سے بہتر ہے۔( روح البیان، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۹/۵۱۸، خازن، الجمعۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۶۵، ملتقطاً)
وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ کبھی اس کی آرزو نہ کریں  گے ان کوتکوں  کے سبب جو ان کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں  اور اللّٰہ ظالموں  کو جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور وہ کبھی موت کی تمنا نہیں  کریں  گے اُن اعمال کے سبب جو اُن کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں  اور اللّٰہ ظالموں  کو خوب جانتا ہے۔
{وَ لَا یَتَمَنَّوْنَهٗۤ اَبَدًۢا: اور وہ کبھی موت کی تمنا نہیں  کریں  گے ۔}  یعنی یہودیوں  نے جو کفر کیا اور رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلایا اس کی وجہ سے یہ کبھی موت کی آرزو نہیں  کریں  گے ۔ یہ اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی خبر تھی جو سچی ثابت ہوئی کہ آیت میں  جن یہودیوں  کے بارے میں  فرمایا گیا کہ یہ کبھی موت کی تمنا نہیں  کریں  گے انہوں  نے ہرگز موت کی تمنا نہیں  کی۔ 
موت کی تمنا کرنے کا شرعی حکم:
	 اَحادیث میں  موت کی تمنا کرنے سے منع کیا گیا ہے ،چنانچہ حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،  رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں  سے کوئی موت کی آرزو نہ کرے نیک شخص تو اس