Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
130 - 881
صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کے رسول ہیں  اور وہی رسول ہیں  جن کی حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بشارت دی،اگر مجھ پر اُمورِ سلطنت کی پابندیاں  نہ ہوتیں  تو میں  ان کی خدمت میں  حاضر ہو کر نعلین اٹھانے کی خدمت بجالاتا۔( ابوداؤد، کتاب الجنائز، باب فی الصلاۃ علی المسلم یموت فی بلاد الشرک، ۳/۲۸۵، الحدیث: ۳۲۰۵)
(2)…حضرت عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’ توریت میں  سرکار دو عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صفت مذکور ہے اور یہ بھی کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام آپ کے پاس مدفون ہوں  گے۔ ابومودود نے کہا ہے کہ روضہِ اقدس میں  ایک قبر کی جگہ باقی ہے۔( ترمذی، کتاب المناقب، باب ما جاء فی فضل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، ۵/۳۵۵، الحدیث: ۳۶۳۷)
(3)… حضرت کعب احبار رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حواریوں  نے حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے عرض کی: یَا رُوْحَ اللّٰہ !کیا ہمارے بعد اور کوئی امت بھی ہے؟آپ نے فرمایا’’ ہاں  ،احمد مجتبیٰ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اُمت ہے ،وہ لوگ حکمت والے ، علم والے، نیکوکار اور متقی ہوں  گے اور فقہ میں  انبیاء ِکرام عَلَیْہِ مُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے نائب ہوں  گے ، اللّٰہ تعالیٰ سے تھوڑے رزق پر راضی رہنے والے ہوں  گے اور اللّٰہ تعالیٰ ان سے تھوڑے عمل پر راضی گا۔( خازن، الصف، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۲۶۲)
 	اس آیت کی مناسبت سے یہاں  5باتیں  ذکر کی جاتی ہیں : 
(1)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کی ماں  کی طرف نسبت کی گئی ، اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بغیر باپ پیدا ہوئے ہیں ۔
(2)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  صرف بنی اسرائیل کے نبی ہیں  جبکہ ہمارے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سارے عالَم کے رسول ہیں ۔
(3)…حضورِ اقدس  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ آخری نبی ہیں  کیونکہ حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صرف آپ کی بشارت دی ہے۔
(4)… حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ  الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے سوا اور کوئی نبی نہ آیا ۔
(5)… حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا نام آپ کی تشریف آوری سے پہلے ہی مشہور ہو چکا تھاکیونکہ بنی اسرائیل کو باقاعدہ بتا دیا گیا تھا۔