میں ڈال دیاجائے گا،اس کی انتڑیاں دوزخ میں بکھرجائیں گی اوروہ اس طرح گرد ش کررہاہوگاجس طرح چکی کے گرد گدھاگردش کرتاہے،جہنمی اس کے گرد جمع ہوکراس سے کہیں گے :اے فلاں !کیابات ہے تم توہم کونیکی کی دعوت دیتے تھے اوربرائی سے منع کرتے تھے ۔وہ کہے گامیں تم کونیکی کی دعوت دیتاتھالیکن خود نیک کام نہیں کرتاتھااورمیں تم کوتوبرائی سے روکتاتھامگرخودبرے کام کرتاتھا۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وانّہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۶، الحدیث: ۳۲۶۷۔)
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’شب ِمعراج میراگزرایسے لوگوں کے پاس سے ہواجن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے ۔ میں نے پوچھا:اے جبریل! عَلَیْہِ السَّلَام ،یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں نے عرض کی :یہ آپ کی امت کے وہ وعظ کرنے والے ہیں جووہ باتیں کہتے تھے جن پر خود عمل نہیں کرتے تھے ۔( مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البیان والشعر، الفصل الثانی، ۲/۱۸۸، الحدیث: ۴۸۰۱)
اور وعدہ خلافی کرنے والوں کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے، جو کسی مسلمان سے عہد شکنی کرے، اس پر اللّٰہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کا کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔( بخاری،کتاب الاعتصام بالکتاب والسنّۃ،باب مایکرہ من التعمّق والتنازع فی العلم۔۔۔الخ،۴/۵۰۵،الحدیث:۷۳۰۰)
یونہی آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو کام تم کرتے نہیں ہو اس کے دعوے نہیں کرو جیسے ایک آدمی غریبوں کی مدد نہیں کرتا لیکن دعویٰ یہ کرتا ہے کہ وہ غریبوں کی بہت مدد کرتا ہے تو یہ محض جھوٹا دعویٰ ہے اور کچھ بھی نہیں ۔ یا ایک آدمی ایک کام کرنے کا دعویٰ کرے لیکن اسے پورا نہ کرے جیسے کہے کہ فلاں جگہ کے غریبوں کی اتنی مدد کروں گا لیکن کہتے ہوئے دل میں موجود ہو کہ عمل نہیں کروں گا تو گویا جو کہتے ہیں وہ کرتے نہیں ۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں قول اور فعل کے تضاد سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ،اٰمین۔
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ(۴)