Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
127 - 881
ترجمۂکنزالایمان: بے شک اللّٰہ دوست رکھتا ہے انھیں  جو اس کی راہ میں  لڑتے ہیں  پرا باندھ کر گویا وہ عمارت ہیں  رانگاپلائی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللّٰہ ان لوگوں  سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں  اس طرح صفیں  باندھ کر لڑتے ہیں  گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ۔
{اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ: بیشک اللّٰہ ان لوگوں  سے محبت فرماتا ہے ۔} ارشاد فرمایا کہ بیشک اللّٰہ تعالیٰ ان لوگوں  سے محبت فرماتا ہے جو اس کی راہ میں  جنگ کے دوران اس طرح صفیں  باندھ کر لڑتے ہیں  گویا وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں ،ان میں  ایک سے دوسرا ملا ہوا ،ہر ایک اپنی اپنی جگہ جما ہوا اوردشمن کے مقابلے میں  سب کے سب ایک چیز کی طرح ہیں ۔( خازن، الصف، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۲۶۲، ملخصاً) مقصود یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کو بہادر مجاہد پسند ہیں  جو ڈٹ کر کفار کا مقابلہ کریں  اور پیٹھ نہ دکھائیں ، اس زمانہ میں  چونکہ جہاد میں  صفیں  باندھی جاتی تھیں ، اس لئے یہاں  صف کا ذکر ہوا جبکہ ہمارے دورمیں  اب صفیں  باندھ کربھی جہاد کی صورت ہوسکتی ہے اور دوسرے طریقے سے بھی اور اب ہر وہ طریقہ اس میں  شامل ہوگا جس میں  ایک مفید نظم و ضبط ہو اورجو آپس میں  ایک دوسرے کی قوت و طاقت اور دوسروں  پر فتح کا ذریعہ بنے۔ 
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْؕ-فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم مجھے کیوں  ستاتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں  تمہاری طرف اللّٰہ کا رسول ہوں  پھر جب وہ ٹیڑھے ہوئے اللّٰہ نے ان کے دل ٹیڑھے کردئیے اور فاسق