عمل محبوب ترین ہے اگر ہمیں معلوم ہو جاتا تو ہم اسی پر عمل کرتے، اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں : ’’سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱)یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کی پاکی بیان کی ہر اس چیز نے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے اور وہی بہت عزت والا،بڑا حکمت والا ہے۔اے ایمان والو ! وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔
حضرت عبد اللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ہمارے سامنے یہ آیتیں تلاوت فرمائیں ۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الصف، ۵/۲۰۲، الحدیث: ۳۳۲۰)
یاد رہے کہ اس آیت کے شانِ نزول میں اور بھی کئی قول ہیں ، اُن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو مسلمانوں سے مدد کرنے کا جھوٹا وعدہ کرتے تھے۔( خازن، الصف، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۲۶۲)اس اعتبار سے منافقوں کی مذمت ہے اور انہیں اہلِ ایمان کہہ کر مُخاطَب کرناان کے ظاہری ایمان کی وجہ سے ہے ۔ اور اگر یہ آیت صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو ا س میں ان کی مذمت نہیں بلکہ تربیت فرمائی گئی ہے کہ ایسے دعوے کرنا درست نہیں کیونکہ آنے والے وقت کا معلوم نہیں کہ کیسا آئے ،ممکن ہے کہ اس وقت کسی وجہ سے وہ یہ دعویٰ پورا نہ کر سکیں ۔
قول اور فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے :
اس آیت سے معلوم ہو اکہ قول اور فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے قول کے مطابق عمل بھی کرنا چاہئے ۔ یاد رہے کہ اس تضاد کی بہت سی صورتیں ہیں جیسے لوگوں کو اچھی باتیں بتانا لیکن خود ان پر عمل نہ کرنا ،یا کسی سے وعدہ کرنااور اس وقت یہ خیال کرنا کہ میں یہ کام کروں گا ہی نہیں ،صرف زبانی وعدہ کر لیتا ہوں ،وغیرہ یعنی ایک بات کہہ دیتا ہوں لیکن پوری نہیں کروں گا۔ اَحادیث میں ان چیزوں کی خاص طور پر شدید مذمت اور وعید بیان کی گئی ہے ،چنانچہ جو لوگوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں اور خود برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں ان کے بارے میں حضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’قیامت کے دن ایک شخص کولایاجائے گا،پھراسے دوزخ