Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
118 - 881
ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں  گی اور نہ چوری کریں  گی اور نہ بدکاری کریں  گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں  گی اور نہ وہ بہتان لائیں  گی جسے اپنے ہاتھوں  اور اپنے پاؤں  کے درمیان میں  گھڑیں  اور کسی نیک بات میں  تمہاری نافرمانی نہ کریں  گی تو ان سے بیعت لو اور اللّٰہ سے ان کی مغفرت چاہو بیشک اللّٰہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
{یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ: اے نبی! جب مسلمان عورتیں تمہارے حضور حاضر ہوں ۔} جب فتحِ مکہ کے دن حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مردوں  سے بیعت لے کر فارغ ہوئے اور عورتوں  سے بیعت لینا شروع کی تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ،اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! جب مسلمان عورتیں  آپ کی بارگاہ میں  اس بات پر بیعت کرنے کیلئے حاضر ہوں  کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانے پر قائم رہیں  گی ، چوری نہ کریں  گی ، بدکاری نہ کریں  گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں  گی،کسی کے بچے کو اپنے شوہر کی طرف منسوب نہ کریں  گی، اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبرداری کرنے میں  آپ کی نافرمانی نہ کریں  گی، تو ان سے بیعت لیں  اور اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت چاہیں  بیشک اللّٰہ تعالیٰ بخشنے والا، مہربان ہے۔(روح البیان،الممتحنۃ،تحت الآیۃ:۱۲،۹/۴۸۷-۴۸۸، خازن،الممتحنۃ،تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۲۶۰، مدارک، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۲۳۴، ملتقطاً)
حضرت ہند بنت ِعتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا  اور دیگر خواتین کی بیعت:
	 جب سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فتح ِمکہ کے دن مردوں کی بیعت لے کر فارغ ہوئے تو کوہِ صفا پر عورتوں  سے بیعت لینا شروع کی، حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نیچے کھڑے ہوکر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا کلام مبارک عورتوں  کو سناتے جاتے تھے۔اسی دوران حضرت ابو سفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرت ہند بنتِ عتبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا  ڈرتے ڈرتے برقع پہن کر اس طرح حاضر ہوئیں  کہ پہچانی نہ جائیں ۔نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ میں  تم سے اس بات پر بیعت لیتا ہوں  کہ تم اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر و گی۔حضرت ہند نے سر اٹھا کر کہا :آپ ہم سے وہ عہد لے رہے ہیں  جو ہم نے آپ کو مردوں  سے لیتے ہوئے نہیں  دیکھا ۔ اس دن مردوں  سے صرف اسلام و جہاد پر بیعت لی گئی تھی۔ پھر حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا اور چوری نہ کرو گی۔ حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے عرض کی:حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بخیل آدمی ہیں  اور میں  نے اُن کا مال