Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
119 - 881
ضرور لیا ہے ، میں  نہیں  سمجھتی کہ مجھے حلال ہوا یا نہیں  ۔حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہاں حاضر تھے، اُنہوں نے کہا: جو تو نے پہلے لیا اور جو آئندہ لے گی سب حلال ہے۔ اس پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’تو ہند بنت ِعتبہ ہے ۔عرض کی:جی ہاں  !مجھ سے جو کچھ قصور ہوئے ہیں  وہ معاف فرما دیجئے۔ پھر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اور بدکاری نہ کرو گی۔ حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے کہا: کیا کوئی آزاد عورت بدکاری کرتی ہے ۔پھر ارشاد فرمایا’’ اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گی ۔حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے کہا: ہم نے چھوٹے چھوٹے بچے پالے ،جب وہ بڑے ہوگئے تو آپ نے انہیں  قتل کردیا، اب آپ جانیں  اور وہ جانیں  ۔حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے یہ اس لئے کہا کہ ان کا لڑکا حنظلہ بن ابو سفیان بدر میں  قتل کردیا گیا تھا۔ حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا کی یہ گفتگو سن کر حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بہت ہنسی آئی۔ پھر حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اپنے ہاتھ پاؤں  کے درمیان کوئی بہتان نہ گھڑو گی۔حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے کہا :خدا کی قسم ! بہتان بہت بری چیز ہے اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں  نیک باتوں  اور اچھی خصلتوں  کا حکم دیتے ہیں ۔ پھر حضور اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’کسی نیک بات میں  رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی نہ کرو گی۔ اس پر حضرت ہند رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا نے کہا: اس مجلس میں ہم اس لئے حاضر ہی نہیں  ہوئے کہ اپنے دل میں  آپ کی نافرمانی کا خیال آنے دیں  ۔عورتوں  نے ان تمام اُمور کا اقرار کیا اور457 عورتوں نے بیعت کی۔( خازن،الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ۴/۲۶۰، مدارک، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۲۳۴-۱۲۳۵، خزائن العرفان، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، ص۱۰۱۹، ملتقطاً)
عورتوں  سے بیعت کی کیفیت:
	عورتوں  سے لی جانے والی بیعت میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے مصافحہ نہ فرمایا اورعورتوں  کواپنا دست ِمبارک چھونے نہ دیا۔حضرت عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہَا فرماتی ہیں  :اللّٰہ تعالیٰ کی قسم! بیعت کرتے وقت آپ کے ہاتھ نے کسی عورت کے ہاتھ کومَس نہیں  کیا،آپ ان کوصرف اپنے کلام سے بیعت کرتے تھے ۔( صحیح بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الممتحنۃ، باب اذا جاء کم المؤمنات مہاجرات، ۳/۳۵۰، الحدیث: ۴۸۹۱)
	 بیعت کی کیفیت میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ پانی کے ایک بڑے برتن میں  سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ