Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
116 - 881
وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْاؕ-وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ(۱۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اگر مسلمانوں  کے ہاتھ سے ان کی کچھ عورتیں  کافروں  کی طرف نکل جائیں  پھر تم کافروں  کو سزا دو تو جن کی عورتیں  جاتی رہیں  تھیں  غنیمت میں  سے انہیں  اتنا دیدو جو ان کا خرچ ہوا تھا اور اللّٰہ سے ڈرو جس پر تمہیں  ایمان ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اگرتم مسلمانوں  کے ہاتھ سے تمہاری کچھ عورتیں  کافروں  کی طرف نکل جائیں  پھرتم (کافروں  کو) سزا دو تو جن کی بیویاں  چلی گئی تھیں  انہیں  (مالِ غنیمت سے) اتنا دیدو جتناانہوں  نے خرچ کیاتھا اور اللّٰہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔
{وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ: اور اگرتم مسلمانوں  کے ہاتھ سے تمہاری کچھ عورتیں  کافروں  کی طرف نکل جائیں ۔} شانِ نزول: اس سے پہلے والی آیت نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے تو ہجرت کرنے والی عورتوں  کے مہراُن کے کافر شوہروں  کو ادا کردیئے جبکہ کافروں  نے مرتدہ عورتوں  کے مہر مسلمانوں  کو ادا کرنے سے انکار کر دیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا کہ اے ایمان والو! اگرتمہارے پاس سے کچھ عورتیں  مرتدہ ہو کر کافروں  کی طرف نکل جائیں ، پھرتم کافروں  کو جہاد کے ذریعے سزا دو اور ان سے غنیمت پاؤ تو جن کی عورتیں  مرتدہ ہو کر دار الحرب میں  چلی گئیں  تھیں  انہیں  مالِ غنیمت سے اتنا دیدو جتناانہوں  نے ان عورتوں  کو مہر دینے میں  خرچ کیاتھا اور اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ 
	 حضرت عبداللّٰہ بن عبا س رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ مومنین مہاجرین کی عورتوں  میں  سے چھ عورتیں  ایسی تھیں  جنہوں  نے دارالحرب کو اختیار کیا اور مشرکین کے ساتھ ملیں  اور مرتدہ ہوگئیں  ،رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ