Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
115 - 881
میں  عورت کا ذکر نہیں  ہے۔
	یہاں  اس مہر سے متعلق دو شرعی مسائل بھی ملاحظہ ہوں :
	(1)… یہ مہر دینا اس صورت میں  ہے جب کہ عورت کا کافر شوہر اسے طلب کرے اوراگر طلب نہ کرے تو اس کو کچھ نہیں  دیا جائے گا۔
	(2) …اسی طرح اگر کافر نے اس مہاجرہ عورت کو مہر نہیں  دیا تھا تو بھی وہ کچھ نہ پائے گا۔
(4)… تم پر کچھ گناہ نہیں  کہ ان ہجرت کرنے والی عورتوں  کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اگرچہ دارُالحرب میں  ان کے شوہر ہوں  کیونکہ اسلام لانے سے وہ ان شوہروں  پر حرام ہوگئیں  اور ان کی زوجیت میں  نہ رہیں  ۔ یاد رہے کہ یہاں مہر دینے سے مراد اس کو اپنے ذمہ لازم کرلینا ہے اگرچہ بِالفعل نہ دیا جائے۔ نیزاس سے یہ ثابت ہوا کہ ان عورتوں  سے نکاح کرنے پر نیا مہر واجب ہوگا جبکہ ان کے شوہروں  کو جو ادا کردیا گیا وہ اس میں  شمار نہیں  ہوگا گویا یہاں  دو قسم کی رقم دینا ہوگی ، ایک سابقہ کافر شوہر کو اور دوسری بطورِ مہر عورت کو۔
(5)… کافرہ عورتوں  کے نکاح پر نہ جمے رہو،یعنی جو عورتیں  دارالحرب میں  رہ گئیں  یا مُرتَدَّہ ہو کردارالحرب میں  چلی گئیں  ان سے زوجیت کا علاقہ نہ رکھو، چنانچہ یہ آیت نازل ہونے کے بعد رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے ان کافرہ عورتوں  کو طلاق دیدی جو مکہ مکرمہ میں  تھیں ۔یہاں  یہ مسئلہ یاد رہے کہ اگر مسلمان کی عورت (مَعَاذَاللّٰہ) مرتدہ ہوجائے تو وہ اس کے نکاح سے باہر نہ ہوگی البتہ عورت کے مسلمان ہونے کے بعد دوبارہ اسی شوہر سے نکاح ضرورپڑھا جائے گا۔
(6)… ان عورتوں  کو تم نے جو مہر دیئے تھے وہ ان کافروں  سے وصول کرلو جنہوں نے اُن سے نکاح کیا۔
(7)…کافروں  کی جو عورتیں  ہجرت کرکے دارالاسلام میں  چلی آئیں  ،ان پر کافروں نے جو خرچ کیا وہ اُن مسلمانوں  سے مانگ لیں جنہوں نے ان عورتوں  سے نکاح کیا ہے۔
	آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ یہاں  جو اَحکام دئیے یہ اللّٰہ تعالیٰ کا حکم ہے، وہ تمہارے درمیان فیصلہ فرماتا ہے اور اللّٰہ تعالیٰ علم والا، حکمت والا ہے۔( خازن، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴/۲۵۹، مدارک، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۲۳۳-۱۲۳۴)