Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
112 - 881
	مُوالات (یعنی کفار کے ساتھ دوستی) کی دو قسمیں  ہیں  :
(1)…حقیقی موالات:اس کی ادنیٰ صورت قلبی میلان ہے،یہ تمام صورتوں  میں  ہر کافر سے مُطْلَقاً ہر حال میں  حرام ہے البتہ طبعی میلان جیسے ماں  باپ،اولادیا خوبصورت بیوی کی طرف غیر اختیاری طور پر ہوتا ہے یہ اس حکم میں  داخل نہیں  پھر بھی اس تَصَوُّر سے کہ یہ اللّٰہ و رسول کے دشمن ہیں  اور ان سے دوستی حرام ہے،اپنی طاقت کے مطابق اس میلان کو دبانا یہاں  تک کہ بن پڑے تو فنا کر دینا لازم ہے ،اس میلان کا آنا بے اختیار تھا اور اسے زائل کرنا قدرت میں  ہے تو اسے رکھنا دوستی کو اختیار کرنا ہوا اور یہ حرامِ قطعی ہے اسی لئے جس غیر اختیاری چیز کے ابتدائی اُمور کسی شخص نے اپنے اختیار سے پیدا کئے تو اس میں  اس کا کوئی عذر قابلِ قبول نہ ہو گا جیسے شراب سے عقل زائل ہو جانا اختیار میں  نہیں  لیکن جب اختیار سے پی تو عقل کا زوال اور اس پر جو کچھ مُرَتَّب ہواسب اسی کے اختیار سے ہو گا۔
(2)… صورۃً موالات:اس کی صورت یہ ہے کہ بندے کا دل کافر کی طرف اصلاً مائل نہ ہو لیکن اس سے برتاؤ ایسا کرے جو بظاہر محبت و میلان کا پتا دیتا ہو۔یہ ضرورت اور مجبوری کی حالت میں  صرف ضرورت و مجبوری کی مقدار مُطْلَقاً جائز ہے اور بقدرِ ضرورت یہ کہ مثلاً صرف عدوات کااظہار نہ کرنے سے کام نکلتا ہو تو اسی قدر پر اِکتفاء کرے اور اظہارِ محبت کی ضرورت ہو تو حتّی الامکان پہلودار بات کہے، صراحت کے ساتھ اظہار کرنے کی اجازت نہیں ، اور اگر اس کے بغیر نجات نہ ملے اور دل ایمان پر مطمئن ہو تو صراحت کے ساتھ اظہار کی رخصت ہے اور اب بھی عزیمت یہی ہے کہ  ایسا نہ کرے۔( فتاوی رضویہ، رسالہ: المحجۃ المؤتمنۃ فی اٰیۃ الممتحنۃ، ۱۴/۴۶۵-۴۶۷، ملخصاً)
	اب زیرِ تفسیر دونوں  آیات کا خلاصہ ملاحظہ ہو ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو! اللّٰہ تعالیٰ تمہیں  ان کافروں  کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں  کرتا جنہوں  نے تم سے دین میں  لڑائی نہیں  کی اورنہ تمہیں  تمہارے گھروں  سے نکالا، بیشک اللّٰہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں  سے محبت فرماتا ہے اور وہ تمہیں  صرف ان کافروں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں  لڑے اورانہوں  نے تمہیں  تمہارے گھروں  سے نکالا اور تمہیں  نکالنے پر تمہارے مخالفین کی مدد کی اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔( خازن، الممتحنۃ، تحت الآیۃ: ۸-۹، ۴/۲۵۸)