Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
85 - 520
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :مسلمان کا ایمان ہے کہ اللہ  ورسول سے زیادہ کوئی ہماری بھلائی چاہنے والا نہیں ، (اور اللہ  و رسول)جَلَّوَعَلَا وَ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ جس بات کی طرف بلائیں یقینا ہمارے دونوں جہان کا اس میں بھلاہے، اور جس بات سے منع فرمائیں بلا شبہ سراسر ضرروبلاہے۔ مسلمان صورت میں ظاہرہوکر جواِن کے حکم کے خلاف کی طرف بلائے یقین جان لو کہ یہ ڈاکو ہے،اس کی تاویلوں پر ہر گز کان نہ رکھو، رہزن جو جماعت سے باہر نکال کر کسی کو لے جانا چاہتا ہے ضرور چکنی چکنی باتیں کرے گا اور جب یہ دھوکے میں آیا اور ساتھ ہولیا تو گردن مارے گا، مال لوٹے گا، شامت اس بکری کی کہ اپنے راعی(یعنی چرانے والے) کا ارشاد نہ سنے اور بھیڑیا جو کسی بھیڑ کی اون پہن کر آیا اس کے ساتھ ہولے، ارے! مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ تمہیں منع فرماتے ہیں وہ تمہاری جان سے بڑھ کر تمہارے خیر خواہ ہیں :’’حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ‘‘ تمہارا مشقت میں پڑنا ان کے قلب ِاقدس پر گراں ہے: ’’عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ‘‘ واللہ وہ تم پر اس سے زیادہ مہربان ہیں جیسے نہایت چہیتی ماں اکلوتے بیٹے پر: ’’بِالْمُؤْمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ‘‘۔ ارے! ان کی سنو، ان کا دامن تھام لو، ان کے قدموں سے لپٹ جاؤ۔(فتاوی رضویہ، ۱۵/۱۰۵)
{وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمْ:اور جب اپنے شیطانوں کے پاس تنہائی میں جاتے ہیں۔}یہاں شیاطین سے کفار کے وہ سردار مراد ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ منافق جب اُن سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا محض استہزاء کے طور پر ہے اور ہم ان سے اس لیے ملتے ہیں تا کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح جِنّات میں شیاطین ہوتے ہیں اسی طرح انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں۔
{اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَہۡزِءُوۡنَ: ہم توصرف ہنسی مذاق کرتے ہیں۔} منافقین صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے سامنے ان کی تعریفیں کرتے اور بعد میں ان کا مذاق اڑاتے تھے، اسی بات کو بیان کرنے کیلئے یہ آیت ِ مبارکہ نازل ہوئی ۔
صحابہ کرام اور علماء دین کا مذاق اڑانے کا حکم:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُماور پیشوایانِ دین کامذاق اڑانامنافقوں کا کام ہے۔ آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو اپنی مجلسوں اور مخصوص لوگوں میں ’’علماء و صلحاء‘‘ اور’’ دینداروں ‘‘ کا مذاق اُڑاتے اور