اظہارِ یکجہتی کرنااپنی نجی محفلوں میں تھا جبکہ مسلمانوں سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم مخلص مومن ہیں ،اسی طرح آج کل کے گمراہ لوگ مسلمانوں سے اپنے فاسدخیالات کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے۔
بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیاررہا جائے:
یاد رہے کہ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ وہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں اور ان کی چکنی چپڑی باتوں سے دھوکا نہ کھائیں۔ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوۡا بِطَانَۃً مِّنْ دُوۡنِکُمْ لَا یَاۡ لُوۡنَکُمْ خَبٰلًاؕ وَدُّوۡا مَاعَنِتُّمْۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْۚۖ وَمَا تُخْفِیۡ صُدُوۡرُہُمْ اَکْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ﴿۱۱۸﴾ ہٰۤاَنۡتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوۡنَہُمْ وَ لَا یُحِبُّوۡنَکُمْ وَتُؤْمِنُوۡنَ بِالْکِتٰبِ کُلِّہٖۚ وَ اِذَا لَقُوۡکُمْ قَالُوۡۤا اٰمَنَّاۚ٭ۖ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الْغَیۡظِؕ قُلْ مُوۡتُوۡا بِغَیۡظِکُمْؕ اِنَّ اللہَ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ﴿۱۱۹﴾ اِنْ تَمْسَسْکُمْ حَسَنَۃٌ تَسُؤْہُمْ۫ وَ اِنۡ تُصِبْکُمْ سَیِّـَٔۃٌ یَّفْرَحُوۡا بِہَاؕ وَ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا لَا یَضُرُّکُمْ کَیۡدُہُمْ شَیۡـًٔاؕ اِنَّ اللہَ بِمَا یَعْمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ﴿۱۲۰﴾٪(اٰل عمران: ۱۱۸-۱۲۰)
ترجمۂکنزالعرفان:اے ایمان والو!غیروں کو راز دار نہ بناؤ، وہ تمہاری برائی میں کمی نہیں کریں گے۔ وہ تو چاہتے ہیں کہ تم مشقت میں پڑ جاؤ۔ بیشک (ان کا)بغض تو ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو ان کے دلوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے بھی بڑھ کر ہے۔ بیشک ہم نے تمہارے لئے کھول کرآیتیں بیان کردیں اگر تم عقل رکھتے ہو۔ خبردار: یہ تم ہی ہو جو انہیں چاہتے ہو اور وہ تمہیں پسند نہیں کرتے حالانکہ تم تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہو اور جب وہ تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں ہم ایمان لاچکے ہیں اور جب تنہائی میں ہوتے ہیں تو غصے کے مارے تم پر انگلیاں چباتے ہیں۔ اے حبیب! تم فرما دو ،اپنے غصے میں مرجاؤ۔ بیشک اللہ دلوں کی بات کو خوب جانتا ہے ۔
رسول کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا: ’’اِیَّاکُمْ وَاِیَّاہُمْ لَا یُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا یَفْتِنُوْنَکُمْ‘‘ ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور کروکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں۔(مسلم، المقدمۃ، باب النہی عن الروایۃ۔۔۔ الخ، ص۹، الحدیث: ۷(۷))