Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
86 - 520
ان پر پھبتیاں کستے ہیں اور جب ان کے سامنے آتے ہیں تو منافقت سے بھرپور ہوکر خوشامداور چاپلوسی کرتے ہیں اور تعریفوں کے پل باندھتے ہیں ،یونہی ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنہیں مذہب اور مذہبی نام سے نفرت ہے اور مذہبی حلیہ اور وضع قطع دیکھ کر ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے ۔ یاد رہے کہ انبیاء کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور دین کا مذاق اڑانا کفر ہے،یونہی صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی بے ادبی گمراہی ہے ،اسی طرح علم کی وجہ سے علمائِ دین کا مذاق اڑانا کفر ہے ورنہ حرام ہے۔
اَللہُ یَسْتَہۡزِئُ بِہِمْ وَیَمُدُّہُمْ فِیۡ طُغْیٰنِہِمْ یَعْمَہُوۡنَ﴿۱۵﴾
ترجمۂکنزالایمان:اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (جیسا اس کی شان کے لائق ہے)اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
ترجمۂکنزالعرفان:اللہ ان کی ہنسی مذاق کا انہیں بدلہ دے گا اور (ابھی)وہ انہیں مہلت دے رہا ہے کہ یہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔
{اَللہُ یَسْتَہۡزِئُ بِہِمْ:اللہ ان کی ہنسی مذاق کا انہیں بدلہ دے گا۔}اللہ تعالیٰ استہزاء اور تمام عیوب سے پاک ہے یہاں جو اللہ تعالیٰ کی طرف استہزاء کی نسبت ہے اس سے مرادمنافقوں کے استہزاء کا بدلہ دینا ہے اور بدلے کے وقت عربی (اور اردو) میں اسی طرح کا لفظ دہرا دیا جاتا ہے جیسے کہا جائے کہ برائی کا بدلہ برائی ہی ہوتا ہے حالانکہ برائی کا بدلہ تو عدل و انصاف اور آدمی کا حق ہوتا ہے۔                      (تفسیر قرطبی، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵، الجزء الاول، ۱/۱۸۳)
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی ۪ فَمَا رَبِحَتۡ تِّجٰرَتُہُمْ وَمَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۶﴾
ترجمۂکنزالایمان:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔
ترجمۂکنزالعرفان:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی تو ان کی تجارت نے کوئی نفع نہ دیا اوریہ لوگ راہ جانتے ہی نہیں تھے۔
{اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰی:یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدلی۔} ہدایت کے بدلے