Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
448 - 520
{فَاِنْ حَآجُّوۡکَ: پھر اگر وہ تم سے جھگڑا کریں۔} دینِ اسلام کی حقانیت بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ ، اگر وہ تم سے تمہارے یا اسلام کے حق ہونے کے بارے میں جھگڑا کریں تو تم انہیں فرما دو کہ تم مانو یا نہ مانو، مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا،میں اور میرے پیروکار تو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردارو مطیع ہیں۔ نیز ان اہلِ کتاب یعنی یہودیوں ، عیسائیوں اوران پڑھوں یعنی اَن پڑھ اہلِ کتاب اور مشرکوں سے مزید یہ بھی فرمادو کہ کیا ہماری طرح تم بھی اسلام قبول کرتے ہو؟ اگریہ اسلام قبول کرلیں تب تو یہ بھی سیدھی راہ والے ہوجائیں گے لیکن اگر یہ اسلام قبول کرنے سے منہ پھیریں تو تمہاری شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ تمہارے اجر و ثواب میں کوئی کمی واقع ہوتی ہے کیونکہ تمہارے اوپرتواللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف اتنی ذمہ داری ہے کہ تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حکم انہیں پہنچادو۔ بقیہ ان کا معاملہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حوالے کردو ، اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں اور اپنے سب بندوں کودیکھ رہا ہے۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ وَیَقْتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّۙ وَّیَقْتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِۙ فَبَشِّرْہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ﴿۲۱﴾
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو اللہ کی آیتوں سے منکر ہوتے اور پیغمبروں کو ناحق شہید کرتے اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں خوشخبری دو دردناک عذاب کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو ناحق شہید کرتے ہیں اور انصاف کا حکم کرنے والوں کو قتل کرتے ہیں انہیں دردناک عذاب کی خوش خبری سنادو۔
{اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکْفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللہِ: بیشک وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے ہیں۔} یہاں بنی اسرائیل کے تین جرائم کا بیان کیا گیا ہے: (1)اللہ عَزَّوَجَلَّکی آیات کا انکار کرنا۔ (2) انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کرنا۔ (3) انصاف کا حکم دینے والوں کو قتل کرنا۔ چنانچہ بنی اسرائیل نے ایک مرتبہ صبح کے وقت تینتالیس نَبِیُّوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا پھر جب ان میں سے ایک سو بارہ عابدوں نے اٹھ کر انہیں نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے منع کیا تو اسی روز شام کو انہیں بھی قتل کردیا۔
(مدارک، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۱۵۴)