Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
447 - 520
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَلائے، چونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو اللہ  تعالیٰ نے تمام لوگوں کیلئے رسول بنا کر مبعوث فرمایا اور آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو آخری نبی بنایا، تو اب اگر کوئی کسی دوسرے آسمانی دین کی پیروی کرتا بھی ہو لیکن چونکہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس قطعی اور حَتمی دین اور نبی کو مکمل طور پر نہیں مان رہا لہٰذااس کا آسمانی دین پر عمل بھی مردود ہے۔ یہود و نصاریٰ وغیرہ کفار جو اپنے دین کو افضل و مقبول کہتے ہیں اس آیت میں ان کے دعویٰ کو باطل فرمایا گیا ہے۔
{وَمَا اخْتَلَفَ: اور انہوں نے اختلاف نہ کیا۔}  یہ آیت یہود و نصاریٰ کے بارے میں اتری جنہوں نے اسلام کو چھوڑا اور سیدُ الانبیاء ،محمد مصطفی  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نبوت میں اختلاف کیا اور یہ اختلاف بھی علم کے بعد کیا کیونکہ وہ اپنی کتابوں میں سیدِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی نعت و صفت دیکھ چکے تھے اور انہوں نے پہچان لیا تھا کہ یہی وہ نبی ہیں جن کی کتبِ الٰہیہ میں خبریں دی گئی ہیں ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ماننے سے انکار کیا اور اس انکار و اختلاف کا سبب ان کا حسد اور دنیاوی منافع کی طمع تھی۔
فَاِنْ حَآجُّوۡکَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلہِ وَمَنِ اتَّبَعَنِؕ وَقُلۡ لِّلَّذِیۡنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالۡاُمِّیّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْؕ فَاِنْ اَسْلَمُوۡا فَقَدِ اہۡتَدَوۡاۚ وَ اِنۡ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیۡکَ الْبَلٰغُؕ وَاللہُ بَصِیۡرٌۢ بِالْعِبَادِ﴿۲۰﴾٪
ترجمۂکنزالایمان: پھر اے محبوب اگر وہ تم سے حجت کریں تو فرمادو میں اپنا منہ اللہ کے حضور جھکائے ہوں اور جو میرے پیرو ہوئے اور کتابیوں اور اَن پڑھوں سے فرماؤ کیا تم نے گردن رکھی پس اگر وہ گردن رکھیں جب تو راہ پاگئے اور اگر منہ پھیریں تو تم پر تو یہی حکم پہنچادینا ہے اور اللہ بندوں کو دیکھ رہا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: پھر اے حبیب!اگر وہ تم سے جھگڑا کریں تو تم فرمادو :میں تواپنا منہ اللہ کی بارگاہ میں جھکائے ہوئے ہوں اور میری پیروی کرنے والے بھی۔ اور اے حبیب ! اہلِ کتاب اور اَن پڑھوں سے فرمادو کہ کیا تم (بھی) اسلام قبول کرتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام قبول کرلیں جب تو انہوں نے بھی سیدھا راستہ پالیا اور اگر یہ منہ پھیریں تو تمہارے اوپر تو صرف حکم پہنچا دینا لازم ہے اور اللہ بندوں کودیکھ رہا ہے۔