Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
449 - 520
	 اس آیت میں نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے زمانہ کے یہودیوں کی مذمت اس لئے ہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے ایسے بدترین فعل سے راضی تھے۔ 
اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالۡاٰخِرَۃِ ۫ وَمَا لَہُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِیۡنَ﴿۲۲﴾
ترجمۂکنزالایمان:   یہ ہیں وہ جن کے اعمال اکارت گئے دنیا و آخرت میں اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور ان کا کوئی مددگار نہیں۔
{اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ حَبِطَتْ اَعْمٰلُہُمْ: یہی وہ لوگ ہیں جن کے اعمال برباد ہوگئے۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی جناب میں بے ادبی کفر ہے اور یہ بھی کہ کفر سے تمام اعمال برباد ہوجاتے ہیں کیونکہ یہودیوں نے اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو شہید کیا تھا جو سخت ترین بے ادبی ہے اور اس پر ان کے اعمال برباد کردئیے گئے۔
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوْتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیۡنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنْہُمْ وَہُمۡ مُّعْرِضُوۡنَ﴿۲۳﴾
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملاکتابُ اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں کہ وہ ان کا فیصلہ کرے پھر ان میں کا ایک گروہ اس سے روگرداں ہوکر پھر جاتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم نے ان لوگوں کونہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا (کہ جب انہیں ) اللہ  کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کا فیصلہ کردے توپھر ان میں سے ایک گروہ بے رخی کرتے ہوئے منہ پھیر لیتا ہے۔ 
{اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ اُوْتُوۡا نَصِیۡبًا مِّنَ الْکِتٰبِ: کیا تم نے ان لوگوں کونہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ یہودیوں کو توریت شریف عطا کی گئی اور اس کے علوم و احکام سکھائے گئے۔ اسی توریت میں تاجدارِ رسالت  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے اوصاف و احوال اور دینِ اسلام کی حقانیت کا بیان بھی تھا تو اس سے لازم