Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
446 - 520
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایک سوال کریں گے، اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے درست جواب دیدیا تو ہم آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ پر ایمان لے آئیں گے ۔ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: ’’سوال کرو۔ انہوں نے عرض کیا کہ’’ کتابُ اللہ میں سب سے بڑی شہادت کون سی ہے؟ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اِسے سن کر وہ دونوں شامی علماء مسلمان ہوگئے۔(جمل، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۸، ۱/۳۸۳)
	اس آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ  تعالیٰ اور فرشتے اور اہلِ علم یعنی انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْنے گواہی دی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہلِ علم بڑی عزت والے ہیں کہ ربِّ کریم عَزَّوَجَلَّ نے انہیں اپنی توحید کا گواہ اپنے ساتھ بنایا،لیکن علمائِ دین سے مراد علمائِ ربانی ہیں یعنی صحیحُ العقیدہ اور صالحین علماء ۔ علمائِ ربانی وہ ہیں جو خود اللہ عَزَّوَجَلَّ والے ہیں اور لوگوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ والا بناتے ہیں ، جن کی صحبت سے خدا عَزَّوَجَلَّکی کامل محبت نصیب ہوتی ہے، جس عالم کی صحبت سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف اورحضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی محبت میں کمی آئے وہ عالم نہیں ، ظالم ہے۔
اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلٰمُ۟ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِیۡنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ اِلَّا مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَہُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بـَیۡنَہُمْؕ وَمَنۡ یَّکْفُرْ بِاٰیٰتِ اللہِ فَاِنَّ اللہَ سَرِیۡعُ الْحِسَابِ﴿۱۹﴾
ترجمۂکنزالایمان: بیشک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے اور پھوٹ میں نہ پڑے کتابی مگر بعد اس کے کہ انہیں علم آچکا اپنے دلو ں کی جلن سے اور جو اللہ کی آیتوں کا منکر ہو تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اورجنہیں کتاب دی گئی انہوں نے آپس میں اختلاف نہ کیا مگر اپنے پاس علم آجانے کے بعد، حسد کی وجہ سے۔ اور جواللہ کی آیتوں کاانکار کرے تو بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔
{اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللہِ الۡاِسْلٰمُ: بیشک اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔} ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا لہٰذا اسلام کے سوا کوئی اور دین بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں مقبول نہیں لیکن اب اسلام سے مراد وہ دین ہے جو حضرت محمد مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی