Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
445 - 520
(4)… متقی لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے فرمانبردار ہوتے ہیں۔
(5)… متقی لوگ راہِ خدا میں مال خرچ کرنے والے ہوتے ہیں۔
(6)… متقی لوگ راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے رب  عَزَّوَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ، نماز پڑھتے ہیں ، توبہ و استغفار کرتے ہیں ، رب تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری اور مناجات کرتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ رات کا آخری پہر نہایت فضیلت والا ہے، یہ وقت خَلْوَت اور دعاؤں کی قبولیت کا ہے۔ حضرت لقمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے فرزند سے فرمایا تھا کہ’’ مرغ سے کم نہ رہنا کہ وہ تو سَحری کے وقت ندا کرے اور تم سوتے رہو۔ (خازن، اٰل عمران، تحت الآیۃ: ۱۶، ۱/۲۳۶)
شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَۙ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ﴿ؕ۱۸﴾
ترجمۂکنزالایمان: اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر ،اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور عالموں نے انصاف سے قائم ہوکر اس کے سوا کسی کی عبادت نہیں عزت والا حکمت والا۔
{شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ:  اوراللہ نے گواہی دی کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔} شانِ نزول: ملکِ شام کے علماء میں سے دوافراد سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب انہوں نے مدینہ طیبہ کو دیکھا تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ’’ نبیِّ آخر الزّمان  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کے شہر کی یہی صفت ہے جو اس شہر میں پائی جاتی ہے۔ پھر جب حضور پرنور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صورتِ مبارکہ اور اوصاف ِ کریمہ کو تَورات کے مطابق دیکھ کر فوراً آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو پہچان لیااور عرض کیا :کیا آپ محمد ہیں ؟ تاجدارِ مدینہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ ہاں۔ انہوں نے پھر عرض کی: کیا آپ احمد ہیں ؟ سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا ’’ ہاں۔ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ صَلَّی اللہُ