Brailvi Books

صراط الجنان جلد اول
444 - 520
تو تو ہمارے گناہ معاف فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
{قُلْ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمْ:تم فرماؤ ،کیا میں تمہیں ان چیزوں سے بہتر چیز بتادوں ؟} سُبْحَانَ اللہ! دنیا کی حقیقت بیان کرنے کے بعد کتنے دلنشین اور حسین انداز میں جنت اور رضائے الٰہی کی طرف دعوت دی جارہی ہے چنانچہ اس فرمان کا خلاصہ یہ ہے کہ’’ اے حبیب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، دنیا کی حقیقت اور فنائیت سمجھانے کے بعد تم لوگوں سے فرمادو کہ کیا میں تمہیں عورتوں ، بیٹوں ، مال و اولاد، سونا چاندی، کاروبار، باغات، عمدہ سواریوں اور بہترین مکانات سے اچھی، عمدہ اور بہتر چیز بتادوں ؟ سنو، وہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے قرب کا گھر یعنی جنت ہے جس میں دودھ، شہد، شراب کی نہریں بہہ رہی ہیں ، جس میں  ایسی پاکیزہ بیویاں ہوں گی جوہر قسم کے زَنانہ عوارض اور ہر ناپسند و قابلِ نفرت چیز سے پاک ہوں گی، اور اس جنت میں پرہیزگاروں کو ہمیشہ رہنا ہے اور ان سب سے بڑھ کر یہ کہ وہاں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی ہے جو سب سے اعلیٰ نعمت ہے۔ دعا: اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، ہمارے دلوں سے دنیا کی محبت نکال کر اپنی محبت ڈال دے، دنیا کی حرص نکال کر آخرت کی طلب داخل کر دے۔ 
اَلصّٰبِرِیۡنَ وَالصّٰدِقِیۡنَ وَالْقٰنِتِیۡنَ وَالْمُنۡفِقِیۡنَ وَالْمُسْتَغْفِرِیۡنَ بِالۡاَسْحَارِ﴿۱۷﴾
ترجمۂکنزالایمان: صبر والے اور سچے اور ادب والے اور راہِ خدا میں خرچنے والے اور پچھلے پہرے معافی مانگنے والے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: صبر کرنے والے اور سچے اور فرمانبردار اور راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور رات کے آخری حصے میں مغفرت مانگنے والے(ہیں )۔
{اَلصّٰبِرِیۡنَ: صبر کرنے والے۔} دنیا کے طالبوں کا ذکر کرنے کے بعد مولیٰ عَزَّوَجَلَّ کی طلب رکھنے والے مُتَّقین کا بیان کیا گیا تھا۔ یہاں ان کے کچھ اوصاف بیان کئے جارہے ہیں۔
(1)… متقی لوگ عبادت و ریاضت کے باوجود اپنی اطاعت پر ناز نہیں کرتے بلکہ اپنے مولیٰ عَزَّوَجَلَّسے گناہوں کی مغفرت اورعذاب ِ جہنم سے نجات کا سوال کرتے ہیں۔
(2)… متقی لوگ طاعتوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے ہیں نیز گناہوں سے بچنے پر ڈٹے رہتے ہیں۔
(3)… متقی لوگوں کے قول ،ارادے اورنیّتیں سب سچی ہوتی ہیں۔